بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شوہر کا طلاق ثلاثہ کا اقراراور بیوی کا انکار


سوال

مجھے یاد آرہاہے آج سے تقریبا آٹھ مہینہ پہلے میں نے اپنی بیوی سے کہاتھا اگر تم نے یہ گولیاں کھائیں تو تےتم پر تین طلاق جبکہ بیوی کہتی ہے کہ تم نے اس طرح کیا تھا کہ اگر آج سے تم نے یہ گولیاں کھائیں تو تم مجھ پر خلاص ، گولیوں سے میری مراد وہ گولیاں ہیں جو نشہ آور ہیں اور اس کے مزید جسمانی نقصانات ہیں جو میں ڈاکٹر سے پوچھ کے آیا ہوں اسی کمپنی کی گولیاں ذہن میں نہ تھی البتہ اشارہ اسی کمپنی کی گولیوں کی طرف تھا تین طلاق کا لفظ کہنے پر میں قرآن پر قسم تو نہیں کھا سکتا البتہ گھر کی دو خواتین اس پر قسم اٹھانے کے لیے تیار ہیں ۔بیوی کہتی ہے کہ مجھے خاوند نے کچھ عرصہ قبل جو کہ آٹھ نو دس مہینے ہیں مجھے صحیح یاد نہیں یوں کہا تھا اگر تم نے یہ گولیاں کھائی تو تم مجھ پر طلاق اور میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہنے کے لیے تیار ہوں کہ خاوند نے یہی الفاظ کہے تھے تین طلاق کا لفظ بھی نہیں کہا اور خلاص کا لفظ بھی نہیں کہا۔ آج سے کچھ عرصہ قبل خاوند نے بیوی کو نشے کی اسی فارمولے کی گولیاں استعمال کرتے ہوئے پکڑلیا صرف کمپنی اور نام تبدیل ہے فارمولے اور فارمولے کے اجزاء ہوبہو انہی گولیوں کے ہیں جن کی طرف طلاق دیتے وقت اشارہ کیا تھا گولیوں کا اثر اور نقصانات بھی وہی ہیں ان بیوی حالت حمل میں ہے اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں ایک طلاق واقع ہوگی یا تین طلاق واقع ہوں گی؟

جواب

صورت مسئولہ کےمطابق شوہر جب اس بات کا اقرار کررہا ہے  کہ میں نے بیوی کی مذکورہ گولیاں کھانے کے ساتھ تین طلاق معلق کی تھیں اس کے بعد جب بیوی نے مذکورہ گولیاں کھا لیں تو بیوی شوہر پر تین طلاق کے ساتھ مطلقہ ہوگئی  اور ان کا باہم رشتہ ختم ہو چکا ہے  ۔

جہاں تک گولیوں کے  کھانے کے ساتھ طلاق کو معلق  کرنے کی بات ہے تو چونکہ شوہر نے نشہ آور ہونے اور صحت کے لیے نقصان دہ ہونے کی بنیاد پر گولیوں سے منع کیا ہے اس لیے بیوی نے اگر اسی فارمولے کی  دوسری کمپنی کی گولیاں کھائی ہوں  تو تب بھی تین طلاق واقع ہوئی ہیں۔

 من أقر بطلاق سابق يكون ذلك إيقاعا منه في الحال۔(المبسوط للسرخسی،ج6،ص238)

وإذا أَضَافَهُ إلَى الشَّرْطِ وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ اتِّفَاقًا مِثْلُ أَنْ يَقُولَ لِامْرَأَتِهِ إنْ دَخَلْت الدَّارَ فَأَنْتِ طالق۔(الفتاوی الھندیہ،ج1،ص420)


فتویٰ نمبر : 6199/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور