بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پندرہ سو افراد پر مشتمل آبادی والے علاقے میں نماز جمعہ پڑھنا


سوال

اپردیرکاایک علاقہ "درہ کریخیل"ہے جس میں تقریباً دس گاؤں ہیں۔اس علاقے (درہ کریخیل )کی آبادی تقریباً چھ ہزار (6000)افرادپر مشتمل ہے یہ علاقہ بازار سے تقریباً سات کلومیٹر کے فاصلے پرہے اس علاقے میں دو ہسپتال،ایک ہائی سکول،سات پرائمری سکول اورتین جنرل سٹوربھی ہیں۔اس علاقہ میں ایک گاؤں کا نام "جائی پائیں" ہےاس میں ایک مسجدہے اور آبادی تقریباً پندرہ سو(1500)ہے اس میں پانی بھی وافر مقدار میں موجودہے مسجد میں ہر قسم کی سہولت موجود ہے۔تو اب پوچھنا یہ ہے کہ اس مسجد میں نماز جمعہ پڑھنا اور پڑھانا کیسا ہے؟

جواب

نمازِجمعہ کے وجوب ادا کی شرائط میں سےایک شرط شہر یا بڑا گاؤں ہے بڑےگاؤں سےمرادوہ ہے جس میں بنیادی ضروریات  پائی جاتی ہوں ۔موجودہ دور میں جس علاقہ کی آبادی تقریبادو، ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور ضروریات زندگی اس میں میسر ہوں تو وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا اور اس میں جمعہ پڑھنا جائز ہوگا ۔صورت مسئولہ کے مطابق اگر گاؤں (جائی پائیں)کی کل آبادی پندرہ سو (1500)ہے تو شرعاً یہ قریہ صغیرہ (چھوٹا گاؤں) ہےلہذا اس گاؤں میں نماز جمعہ پڑھنا اور پڑھانا جائز نہیں ۔

ٓتقع فرضا فی القصبات والقری الکبیرۃ التی فیھا أسواق۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الصلوۃ ،باب الجمعۃ ج3 ص6) 

 لاتصح الجمعۃ إلا في مصر جامع أو مصلی المصر ولا تجوز فی القری ۔(الھدایۃ ،کتاب الصلوۃ ، باب الجمعۃ ،ج1ص 177)


فتویٰ نمبر : 8745/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور