بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
طلاق کو قسم دلانے کی شرط پر معلق کرنا
سوال
ایک شخص کی بیوی اکثر موبائل فون پر رابطہ کر کے اپنے خاوند کو کہتی تھی کہ فون پر مجھ سے باتیں کیا کرو جبکہ خاوند باہر ملک میں تنخواہ پر گاڑی کا ڈرائیور تھا تو ان کی اپنی بھی مصروفیات زیادہ ہوتی تھیں تو زیادہ باتیں کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا اس لیے وہ رابطہ کم رکھتے تھے لیکن اس کی بیوی چونکہ اپنے والد کے گھر کی طرف سے بہت ناز سے پلی تھی اس لیے معمولی باتوں پر بھی دل تنگ ہو کر خاوند کو باربار کال ملاتی تھی اور واٹس ایپ ،میسج پر اکثر اس طرح قسم دلاتی تھی کہ تیرے باپ یا ماں یا فلاں بھتیجے کی قسم مجھ سے باتیں کیا کرو ۔ایک دفعہ جب زیادہ میسج آئے اور قسمیں دیں تو خاوند نے فون ملاکرکہا کہ "اگر تم نے مجھے پھر قسم دلائی تو تم مجھ پر طلاق ہو طلاق ہو طلاق ہو "پھر فورا توبہ واستغفار کیا اسی دوران فون پر بہت افسوس کیا کہ یہ مجھ سے کیا الفاظ نکلے ۔بیوی بھی بہت گھبراگئی تو دو سال تک بیوی نے کوئی قسم نہیں دلائی لیکن اب چند ہفتے پہلے بیوی نے بھول کر خاوند کو اس کی ماں کی قسم دلائی کہ مجھے فون ملاؤ ۔محترم مفتی صاحب اب پوچنا یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی ہے کہ نہیں ؟کیونکہ خاوند نے کہا تھا کہ اگر تم نے مجھے قسم دلائی تو اس سے مراد تو وہ قسم ہوگی جو شرعا معتبر ہو جبکہ غیراللہ کی قسم غیر شرعی ہے اور بیوی نے غیر شرعی قسم دلائی ہے،اب اس طرح قسم دلانے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟
جواب
اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو جب بھی شرط پائی جائے گی طلاق واقع ہو گی ۔صور ت مسئولہ میں اگر واقعی خاوند نے بیوی کی طلاق کو قسم دلانے پر معلق کیا ہو اور پھر بیوی نے جان بوجھ کر یا بھول کر اپنے خاوند کو قسم دلائی تو طلاق واقع ہوگئی ۔اور چونکہ خاوند نے شرط کے ساتھ تین طلاقیں معلق کی ہیں لہذا بیوی طلاق مغلظہ کے ساتھ خاوند سے علیحدہ ہوجائے گی ۔
جہاں تک قسم شرعی اور غیر شرعی کی بات ہے تو یہاں جو قسم بیوی دلائی رہتی تھی وہی قسم مراد ہوگی کیونکہ قسم شرعی کا یہاں کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔
واذااضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا(الفتاوی الھندیۃ ج1ص420)
(والبدعی ثلاث متفرقۃ )وکذا بکلمۃ واحدۃ ۔۔۔وذھب الجمھورالصحابۃ والتابعین ومن بعد ھم من ائمۃ المسلمین الی انہ یقع ثلاث ۔(ردالمحتار علی الدرالمختار ج4ص434)