بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پہلے،تیجےاور چالیسویں کا حکم


سوال

ہمارے علاقے ضلع مہمند میں یہ رواج ہے کہ اگر کوئی فوت ہو جائے اور گھرانہ امیر ہو تو جنازے کے بعد پیسے ،صابن اور جائے نماز وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور پھر فوتگی کے پہلے یا تیسرے دن خیرات کرتے ہیں پھر ہر جمعرات کو عصر کے وقت صدقہ کرتے ہیں 40 دن تک ،پھر چالیسویں دن صدقہ کرتے ہیں بعض علماء کہتے ہیں کہ جائز ہے اور بعض کی رائے ہے کہ یہ ناجائز ہے ،کیا یہ بدعت ہے یا نہیں ،اس میں گناہ ہے یا ثواب ،برائے کرم اس مسئلہ کے بارے میں وضاحت فرمائیں ؟

جواب

میت کے لیے ایصال ثواب کی نیت سے صدقہ کرنا،خیرات کرنا اور نوافل پڑھنا نہ صرف جائزبلکہ باعث اجر بھی ہے لیکن  اپنی طرف سے بعض مخصوص چیزوں کو صدقہ کے ساتھ خاص کرناکہ انہی چیزوں کے ساتھ صدقہ کیا جائے اسی طرح خاص ایام مقرر کرنااور بطور خاص ان ایام میں صدقہ کرنے کو لازم سمجھنا اپنی طرف سے دین میں زیادت کے مترادف ہے اس لیے ان رسومات سے احتراز کرنا چاہیے۔

چنانچہ ایصال ثواب کے لیے جنازے کے بعدصابن ،جائے نماز وغیرہ کو صدقہ کے لیے لازم سمجھنا اورایام میں سے جمعرات یا چالیسویں دن وغیرہ خیرات کے لیے خاص کر کے ان ایام میں صدقہ لازم سمجھنا ایک معاشرتی رسم ہے جو شرعی اصول کے خلاف ہے لہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔

ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،ج2،ص240)

ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج2،ص240)


فتویٰ نمبر : 8744/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور