بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
کسی شخص کامدرسے کی اسناد کی قیمت اداکرنے کےبعد ان کی ملکیت
سوال
ایک مدرسے کامہتمم اپنےادارے کے نام کی سندیں بنواکر طلبہ کو بامعاوضہ دے دیتاہے،بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ ان اسناد کی رقم مہتممکا کوئی دوست ادا کرتاہے اور ساتھ یہ کہتا ہے کہ یہ میری طرف سے ہدیہ ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ان اسناد کی قیمت مہتمممدرسے کی رقم سے اپنے لیے لےسکتا ہے یانہیں؟
جواب
مہتمم کی حیثیت مدرسے کے لیے ایک سفیر اور وکیل کی ہوتی ہے،اس کے ساتھ مدرسہ کے امور میں جولوگ تعاون کرتے ہیں وہ مدرسے ہی کے ساتھ تعاون ہوتا ہے اس کی ذات کے ساتھ نہیں۔
لہٰذا صورت مسؤلہ کے مطابق سند بنوانے کاتعلق بھی چونکہ ادارے اور مدرسےہی کے ساتھ ہےاسی لیے اس کے دوست کا سندوں کی قیمت ادا کرنابھی دراصل مدرسے سے تعاون ہے نہ کہ اس کی ذات سے۔لہٰذا یہ اسناد مدرسے ہی کی ملکیت ہیں اور طلبہ کوفروخت کرنے کے بعد ان کی رقم مدرسے کے فنڈ میں جمع کرناضروری ہے،اپنے لیے ان کی قیمت نہیں لے سکتا۔
"الوكيل أمين فيمافي يده كالمودع فيضمن بما يضمن به المودع"۔(شرح المجلة،لخالد الأتاسي،الوكالة،ج4ص404)
"رجل جمع مالامن الناس لينفقه في بناء المسجد وأنفق من تلك الدراهم في حاجة نفسه ثم ردبدلهالايسعه أن يفعل ذالك۔۔۔وفي القضاءيكون ضامنا فيكون ذالك دينا عليه لصاحب المال"(فتاوى قاضي خان ،الوقف ،باب الرجل يجعل داره مسجدا،ج3ص299)