بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بیوی کو خاموش کرنے کے لیے یہ کہنا"تین شرطوں پر طلاق"
سوال
بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمة الله وبركاته. حضرات مفتیان کرام دامت برکاتھم میرا بیوی کے ساتھ کسی بات پر لڑائی جھگڑا ہوا, بیوی مجھے بار بار یہ کہہ رہی تھی کہ تم ہمیشہ اپنی خاندان والوں کی وجہ سے میرے ساتھ لڑتے ہوں. بیوی کو یہ بات سمجھانے کیلئے کہ میں صرف اپنی خاندان والوں کی وجہ سے نہیں لڑرہا میں نے یوں کہا. " کہ میں وضو کر کے قرآن کے اوپر ہاتھ رکھ کر یہ بولوں گا کہ میری بیوی کو تین شرطوں پر طلا(یعنی لڑائی صرف اس وجہ سے نہیں جو وہ سمجھ رہی ہے ). بیوی پھر بھی شور مچا رہی تھی, اسکو خاموش کرنے کیلئے تاکید کے طور پر میں نے یہ الفاظ دہرائے "تین شرطوں پر طلاق " تین شرطوں پر طلاق " (یعنی کہ قسم اٹھا کر میں یہ الفاظ بولوں گا). میں اس بات پر حلف اٹھا نے کو تیار ہوں کہ میری طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی, خصوصا تین طلاق کے بارے میں, کبھی سوچا بھی نہیں, اسلئے کہ میں جانتا تھا کہ اسکے بعد سوائے شرعی حلالہ کے رجوع ہوہی نہیں سکتی. لیکن ھمارے عرف میں بات کو مضبوط کرنے کیلئے اس طرح کے حلف اٹھائے جاتے ہیں, اسلئے بیوی کو خاموش کرنے کیلئے تاکید کے طور پر میں نے یہ الفاظ دہرائے. اب بعد میں خیالات تنگ کر رہے ہیں, کہ دوسری اور تیسری مرتبہ جو الفاظ دہرائے گئے, اس میں لفظ "بولوں گا " یعنی صیغہ استقبال نہیں, تو کہیں ایسا تو نہیں کے طلاق واقع ہو گئی ? ہو سکتا ھے دیانة نہ ہوئی ہو, شاید قضاء ہو گئی ہو ? اب میری زوجہ کو کیا حکم ہوگا, کیا وہ "المرأة كالقاضى"والے مسئلے پر عمل کرینگی یا نہیں (یعنی کہ وہ خود کو مطلقہ سمجھے)? کبھی سوچتا ہوں کہ احتیاطا اس کو مغلظہ ھی سمجھو. ہم دونوں میاں بیوی ساتھ رہنا چاھتے ھیں لیکن ان خیالات کی وجہ سے پریشان ہوں امید ھے کہ آپ حضرات مدلل ومفصل جواب عنایت فرما کر میری اس بے چینی کو دور فرمائے گے. جزاکم اللہ خیرا والسلام علیکم ورحمة الله وبركاته
جواب
طلاق ماضی یا حال پر دلالت کرنے والے الفاظ کے ساتھ واقع ہوتی ہے جن الفاظ میں مستقبل میں طلاق کی دھمکی ہو یامستقبل میں طلاق دینے کے عزم کا اظہار ہوان سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ میں شوہر کا یہ کہنا کہ"میں وضو کرکے قرآن کے اوپر ہاتھ رکھ کریہ بولوں گا کہ میری بیوی کو تین شرطوں پر طلاق"چونکہ اردو میں یہ مستقبل کاجملہ ہے،ماضی یا حال کانہیں ،اس لیے یہ مستقبل میں طلاق کی دھمکی ہے اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
اس کے بعد جب شوہر نے دومرتبہ "تین شرطوں پر طلاق"کے الفاظ کہے تو اگر اس سے مقصود اسی جملے کا تکراریا تاکید تھا تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔لیکن اگر بعد والے جملے سے مقصود الگ انشاءِطلاق ہوتوایسی صورت میں ان الفاظ سے واقع ہوکر بیوی مطلقہ مغلظہ ہوگی۔ نیزاس میں اس وقت کی نیت معتبرہے جس وقت یہ الفاط کہے تھے اگر اس وقت انشاءِ طلاق کی نیت نہیں تھی تو بعد میں جو وساوس دل میں پیداہوئےہیں ان کاکوئی اعتبارنہ ہوگا۔
صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب فى الحال.(تنقيح الحامدية،كتاب الطلاق،ج1ص38)
وَلَوْ قال أَرَدْت طَلَاقَك لَا يَقَعُ .....وَلَيْسَ منه أُطَلِّقُك بِصِيغَةِ الْمُضَارِعِ إلَّا إذَا غَلَبَ اسْتِعْمَالُهُ في الْحَالِ .....وَقَيَّدَ بِخِطَابِهَا لِأَنَّهُ لو قال حَلَفْت بِالطَّلَاقِ ولم يُضِفْ إلَيْهَا لَا يَقَعُ.(البحرالرائق،كتاب الطلاق، ج3 ص438،439،442)