بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فری لانسنگ کو ذریعہ معاش بنانا


سوال

جدیدمعاشی میدان میں فری لانسنگ  کا  بہت چرچا ہے  ، جب کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو وہ اشتہار دیتا ہے  ، مثلا: کوئی سبجیکٹ پڑھنا چاہتا ہے یا اسائمنٹ  سیکھنے کے لئے مدد چاہتا ہے   یا   امتحان میں مدد چاہتا ہے تو  پھر  جو شخص اس کی مدد کر سکے یا اسے  یہ خدمت فراہم کر سکے وہ اس سے رابطہ کر تا ہے اور آپس میں قیمت کی تعیین کر نے کے بعد وہ کام پو را کرتا ہے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ آن لائن ان خدمات کے عوض رقم لینا کیسا ہے؟ کونسی صورتیں جائز اور کوون سی ناجائز ہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات  کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے ۔فری لانسنگ بھی عقد اجارہ  ہی کی ایک صورت ہے جس  میں فری لانسر کی حیثیت اجیر مشترک  کی ہے جبکہ  گاہک کی حیثیت  مستاجر کی ہوتی ہے اور ان دونوں کے مابین عقد اجارہ طے پاتاہے چنانچہ ان کے مابین ہونے والے  عقد میں اجارہ کی شرائط کا ہونا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں  فری لانسنگ کے ذریعہ جو خدمات فراہم کی جاتی ہیں  اگر وہ  غیر شرعی مواد  (مثلا:   کسی حرام چیز کی تشہیر ، موسیقی ، وغیرہ) پر مشتمل نہ ہوں  تو ان کے عوض رقم وصول کرنا جائز ہے۔

(الأجراء على ضربين مشترك وخاص فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير موقت)۔۔۔(أو موقتا بلا تخصيص)۔۔۔(ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه)۔  (الدرالمختار، باب ضمان الأجير،ج6،ص64)

ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا۔  (الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،باب الاول،ج4،ص411)

ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح وكذا سائر الملاهي لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد۔ (الهداية،كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة،ج3،ص306)


فتویٰ نمبر : 2781/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور