بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شیخ کا ہاتھ چومنے کے لئے جھکنا


سوال

اپنے شیخ کا ہاتھ چومنے کے لئے جھکنا کیسا ہے؟

جواب

علماءمشائخ اور دینی شرف رکھنے والے حضرات کےہاتھو ں یا پیشانی  وغیرہ پر بوسہ دینا احادیث مبارکہ اور حضرات صحابہ اور تابعین رضی اللہ عنھم سے بلا کسی نکیر کے ثابت ہے ۔تاہم غیر اللہ کی تعظیم کی نیت سے اس کے سامنے جھکنا جائز نہیں لیکن شیخ اور کسی عالم کو بوسہ لینے کی غرض سے جھکنا چونکہ فی نفسہ مقصود نہیں ہوتا اس لیے اس کی  گنجائش ہے ۔

وَإِنْ قَبَّلَ يَدَ غَيْرِهِ إنْ قَبَّلَ يَدَ عَالِمٍ أو سُلْطَانٍ عَادِلٍ لِعِلْمِهِ وَعَدْلِهِ لَا بَأْسَ بِهِ هَكَذَا ذَكَرَهُ في فَتَاوَى أَهْلِ سَمَرْقَنْدَ وَإِنْ قَبَّلَ يَدَ غَيْرِ الْعَالِمِ وَغَيْرِ السُّلْطَانِ الْعَادِلِ إنْ أَرَادَ بِهِ تَعْظِيمَ الْمُسْلِمِ وَإِكْرَامِهِ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ أَرَادَ بِهِ عِبَادَةً له أو لِيَنَالَ منه شيئا من عَرَضِ الدُّنْيَا فَهُوَ مَكْرُوهٌ وكان الصَّدْرُ الشَّهِيدُ يُفْتِي بِالْكَرَاهَةِ في هذا الْفَصْلِ من غَيْرِ تَفْصِيلِ كَذَا في الذَّخِيرَةِ تَقْبِيلُ يَدِ الْعَالِمِ وَالسُّلْطَانِ الْعَادِلِ جَائِزٌ۔ (الفتاوی الھندیۃ  ،کتاب الکراھیۃ ،ج5ص369)


فتویٰ نمبر : 4551/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور