بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حاجی کا کسی دوسرے کو رقم دیکر قربانی کرنا


سوال

حاجی کو ایک شخص نے قربانی کی پیشکش کی تو حاجی نے اس کو قربانی کیلئے رقم دے دی ،بعد میں دوسرے احباب سے ا س کو علم ہوا کہ مذکورہ بالا شخص دھوکہ باز ہے اور قربانی کے نام پر رقم بٹورتا ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ(1) کیا اس شخص پر از سر نو قربانی لازم ہو گی یا نہیں ؟اگر لازم ہو تو ایک قربانی لازم ہو گی یا دو قربانیاں ؟(2) یہ لازم قربانی وطن سکونت میں کرنے سے ادا ہو جائے گی یاحدود حرم میں قربانی کرنا لازم ہے ؟

جواب

حج تمتع  یا حج قران  کرنے  والے شخص پر قربانی واجب ہے  جبکہ حج افراد کرنےوالے شخص پر حج کی قربانی واجب نہیں۔اگر حاجی کیلئے خود قربانی کرنا ممکن ہو   تو بہتر ہے   کہ خود  قربانی کا فریضہ سرانجام دے ،ورنہ  کسی معتمد شخص یا ادارے  کو  قربانی کی رقم  دیکر  قربانی کرنا  بھی جائز ہے ۔

صورت مسؤلہ میں  اگر اس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ جس کو اس نے قربانی کی رقم  دی ہے  وہ واقعی قربانی کر چکا ہو گا  تو ایسی صورت میں اس سےقربانی کا فریضہ ساقط ہو گا۔لیکن اگر اس کا غالب گمان یہ ہو  کہ اس کے نائب نے قربانی نہیں کی ہے  تو ایسی صورت میں اس پر دو قربانیاں واجب ہوں گی ایک  دم شکر (حج کی قربانی)،جبکہ دوسری قربانی دم جنایت کی لازم ہو گی اس لئے کہ قربانی کے بغیر احرام کھولنا ممنوع  ہے ۔

(2)حج کی قربانی(خواہ دم شکر ہو یا دم جنایت ) کو حدود  حرم    میں ذبح کرنا  ضروری   ہے  حدود حرم   سے  باہر     ذبح کرنے  سے  واجب ادا نہ ہو گا ۔

قوله ( فإن لم يصم إلى يوم النحر تعين الدم ) أي إن لم يصم الثلاثة حتى دخل يوم النحر لم يجزه الصوم أصلا وصار الدم متعينا ۔۔۔فلو لم يقدر على الهدي تحلل وعليه دمان دم التمتع ودم التحلل قبل الهدي۔(البحر الرائق ،كتاب الحج ،باب القران ج2 ص634)

ولو  ذبح  شیئا من الدماء الواجبۃ  فی الحج  او العمرۃ  خارج الحرم  لم یسقط  عنہ  وعلیہ ذبح  آخر ۔(الہدایۃ،کتاب الحج ،ج1ص321)

أن غلبة الظن تعمل عمل اليقين في حق وجوب العمل وإن لم تعمل في حق الاعتقاد كما في التحري في القبلة وكما في دفع الزكاةلمن غلب على ظنه فقره وكما إذا غلب على ظنه نجاسة الماء أو طهارته۔(البحر الرائق،کتاب الطہارۃ،باب التیمم،ج1ص169)

 القاعدۃ الثالثۃ: الیقین لا  یزول بالشک ۔۔۔فمن ھذا  حقق بعض المحققین  ان المراد  لا یرتفع  بہ حکم الیقین ۔(الاشباہ والنظائر لابن نجیم ص27)


فتویٰ نمبر : 8740/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور