بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
نمازکی قرأت میں معنی تبدیل کرنے والی غلطی کا حکم
سوال
ایک امام نے نماز کی قرات میں آیت "وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا (الفرقان:67) کے اس حصہ " وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا" کو بھول کر چھوڑ دیا اور اس سے اگلی والی آیت کا یہ حصہ "وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا"تلاوت کیا ۔اس کے بعد بغیر درست کئے رکوع میں چلا گیا اور نماز مکمل کی ۔شرعا ایسی صورت میں نماز ہو جاتی ہے یا نہیں ؟
جواب
نماز میں قرات کرتے ہوئے اگر کسی آیت کو مکمل کئے بغیروقف تام کیا جائے یعنی سانس توڑ کر ٹھہر اجائے پھر بھولے سے دوسری آیت یا دوسری آیت کا کچھ حصہ تلاوت کیا جائے تو اس سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا ،اگر چہ ایسا کرنے سے خلاف مراد معنی پیدا ہو ۔ لیکن اگر وقف تام کئے بغیر دوسری آیت کا کچھ حصہ اتصال کے ساتھ پڑھا جائےاور اس سے معنی بگڑ کر ایسا معنی پیدا ہو جس کا اعتقاد کفر ہو اس غلطی کا ازالہ بھی نہ کیا جائے تو ایسی صورت میں نماز فاسد ہوگی ۔جس کا دوبارہ پڑھنا ضروری ہو گا ۔
صورت مسؤلہ میں اگر امام نے آیت "وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا" پڑھنے کے بعد وقف تام کیا ہو اور اس کے بعد بھول سے اگلی والی آیت کا یہ حصہ "وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا"پڑھ لیا ہو تو نماز ادا ہوگئی ہے ۔لیکن اگر وقف کئے بغیر اگلی آیت کا مذکورہ بالا حصہ پڑھ لیا ہو تو چونکہ اس سے خلاف مراد اور غلط معنی پیدا ہوتا ہے لہذا ایسی صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز ادا نہیں ہوئی،چنانچہ نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہو گا ۔
وصحح الباقاني الفساد إن غير المعنى نحو رب رب العالمين للإضافة كما لو بدل كلمة بكلمة وغير المعنى نحو إن الفجار لفي جنات۔وقال ابن عابدين تحته:وقيد الفساد في الفتح وغيره بما إذا لم يقف وقفا تاما أما لو وقف ثم قال لفي جنات فلا تفسد وإذا لم تغير لا تفسد۔(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الصلاة ،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها ،مطلب اذا قرا قوله"وتعالى جدك"بدون الف لا تفسد،ج 1ص 634)
لو ذكر آية مكان آية إن وقف وقفا تاما ثم ابتدأ بآية أخرى أو ببعض آية لا تفسد كما لو قرأ والعصر إن الإنسان ثم قال إن الأبرار لفي نعيم أو قرأ والتين إلى قوله وهذا البلد الأمين ووقف ثم قرأ لقد خلقنا الإنسان في كبد أو قرأ إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات ووقف ثم قال أولئك هم شر البرية لا تفسد أما إذا لم يقف ووصل إن لم يغير المعنى نحو أن يقرأ إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات فلهم جزاءالحسنى مكان قوله كانت لهم جنات الفردوس نزلا لا تفسد أما إذا غير المعنى بأن قرأ إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات أولئك هم شر البرية إن الذين كفروا من أهل الكتاب إلى قوله خالدين فيها أولئك هم خير البرية تفسد عند عامة علمائنا وهو الصحيح هكذا في الخلاصة۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الصلاة ،الفصل الخامس في زلة القاري ،الباب الرابع ج1ص80)