بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تجارتی زمین میں زکوۃ کا حکم


سوال

2010 میں ہم نے ایک پلاٹ تجارت کی نیت سے خریدا تھا یعنی جس وقت ہم خریداری کررہے تھےاس میں ہماری نیت یہ تھی کہ ہم اس پر دکانیں بنا کر مالکانہ حقوق پر فروخت کریں گے۔ بعد انتقال فروخت کرنے والوں میں سے ایک نے سیشن کورٹ میں کیس داخل کرایا کہ مجھ سے دستخط (انگوٹھا )ذہنی توازن کی عدم درستگی میں لیا گیا تھا لہذا میں قبضہ دینے سے انکار کرتا ہوں چنانچہ اسی وقت اس جائیداد پر stay کا حکم لاگو ہوا جس کی وجہ سے ہم اس میں تعمیر نہ کرسکے تاہم قبضہ ہمارے پاس بدستور تھا ۔stay کے دوران ہم نے مذکورہ پلاٹ کرایہ پر دیا 2019 میں ہم نے یہ پلاٹ فروخت کیا لیکن تاحال اس پر کیس جاری ہے 30فیصد رقم کی ادائیگی فوری ہوئی اور باقی 70فیصد رقم کی ادائیگی کیس کا فیصلہ آنے کے بعد ہوگی ۔اب سوال یہ ہے کہ اس پلاٹ کی رقم میں ادائیگی زکوۃ کس حساب سے ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ جو پراپرٹی اس طرح تجارت کی نیت سے خریدی جائےکہ اس کو فروخت کرکے نفع کمایا جائے گا اور اس کی مالیت نصاب تک پہنچتی ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ واجب ہو جاتی ہے اور اگر پراپرٹی کرایہ پر دی ہو تو اس پراپرٹی کی مالیت پر زکوۃ لازم نہ ہوگی البتہ اگر  پراپرٹی کا مالک پہلے سے صاحب نصاب ہو یااس کرایہ کی رقم سے صاحب نصاب بن جائے تو سال گزرنے پر زکوۃ اداکرنا لازم ہوگی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب پلاٹ تجارت کی نیت سے خریدا تھا لیکن کسی عذر کی وجہ سے تجارت کی نیت نہ رہی اور اس کو کرایہ پر دے دیا تو اس کی مالیت پر زکوۃ کا وجوب ساقط ہوگا اور اس کی آمدنی اگر نصاب تک پہنچے یا مالک پہلے سے صاحب نصاب ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔

ولو اشترى الرجل دارا او عبدا للتجارة ثم اجره ، يخرج من ان يكون للتجارة ،لانه لما آجره فقد قصد المنفعة۔(فتاوى قاضي خان ،فصل في مال التجارةج1ص155)

ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها و يواجرها ، لا تجب فيها الزكوة كما لا تجب في بيوت الغلة۔(الفتاوى الهندية كتاب الزكوة الباب الثالث في زكوة الذهب ۔۔ج1ص180)

الزكوة واجبة على الحر العاقل۔۔۔۔اذاملك نصابا ملكا تاما، وحال عليه الحول۔(الهداية، كتاب الزكوةج1 ص200،201)


فتویٰ نمبر : 8738/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور