بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

لیکوریا کی بیماری میں پڑھی گئی نمازوں کی قضا


سوال

اگر کسی لڑکی کو بلوغت کے بعد تین چار سال تک لیکوریا کا مسئلہ معلوم نہ ہو کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں اور اسی طرح نمازیں پڑھتی رہی اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو اس پر ان تین ،چار سالوں کی قضا ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ سیلان الرحم (لیکوریا ) کا پانی نجس ہے اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور کپڑوں پر لگنے کی صورت میں کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں۔بعض خواتین کو اس کی شکایت کم ہوتی ہے اور بعض کو زیادہ ،پس جس خاتون کو ایام سے پاک ہونے کے بعد لیکوریا کی اتنی شدت ہو کہ نماز کے پورے  وقت کے دوران طہارت کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع نہ مل سکے اس پر معذورہ کا حکم جاری ہوگا کہ ہرنماز کے وقت ایک بار وضو کر لینا کافی ہوگا اور وضو کے بعد لیکوریا سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا ۔لیکن اگر اتنی شدت نہ ہو تو وہ معذور نہ ہوگی۔چنانچہ وضو کے بعد نماز سے پہلے یا نماز کے اندر لیکوریا کا پانی خارج ہونے سے اس کو دوبارہ وضو کرکے نماز پڑھنا ضروری ہوگا اگر بغیر وضو کے نماز ادا کی تو اس کا اعادہ کرنا لازم ہوگا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی لڑکی کو لیکوریا کی بیماری مسلسل اور شدت کے ساتھ نہیں بلکہ کبھی کبھی آتی ہو تو وہ معذور کے حکم میں داخل نہیں لہذا بلا وضو پڑھی گئی تمام نمازوں کی قضا اس پرلازم ہے ۔چنانچہ وہ اپنی ان تمام نمازوں کا حساب لگا کر قضا کرے ۔لیکن اگر لیکوریا کی بیماری مسلسل تھی اور تمہید میں مذکورصورت حال کے مطابق یہ معذور کے حکم ميں داخل تھی تو ايسی صورت میں جن نمازوں کے لیے نیا وضو نہیں کیا صرف ان کی قضا لازم ہوگی اس کے علاوہ جن نمازوں کے لہے وقت کے اندر وضو کرکے اس سے نماز پڑھی ان نمازوں کی قضا لازم نہیں ۔

قوله ( برطوبة الفرج ) أي الداخل۔۔۔ومن وراء باطن الفرج فإنه نجس قطعا ككل خارج من الباطن كالماء الخارج مع الولد أو قبيله ا هـ(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطھارۃ،باب الحیض ج1ص313)

( وصاحب عذر من به سلس ) بول لا يمكنه إمساكه ( أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة ۔۔۔ إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث۔۔۔وحكمه الوضوءلكل فرض۔(ردالمحتار على الدرالمختارمطلب في أحكام المعذورج1ص505،504)

عن ابن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا تقبل صلاة بغير طهور و لا صدقة من غلول۔(جامع الترمذي ،أبواب الطهارة،باب ماجاء لا تقبل صلوةبغير طهورج 1ص3)


فتویٰ نمبر : 8739/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور