بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

والد کا اپنی زندگی میں بیٹوں کو جائیداد میں حصہ دے کر بیٹیوں کو محروم کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دادامرحوم (ملک شہباز خان )نے اپنی حیات میں اپنی اولاد نرینہ یعنی میرے والد (گل یوسف خان )اور میرے چچا (فیض محمد خان )کو اپنی جائیداد ہبہ کی تھی یعنی دونوں کو آدھا آدھا حصہ دیا تھا اور دونوں بیٹوں نے والد کی حیات میں اپنی اپنی جائیداد کو قبضہ میں لایا تھااس کے بعد میرے والد نے بھی مجھے اور میرے دو بھائیوں کے درمیان برابر برابرتقسیم کی تھی اور تینوں بھائیوں نے اپنے اپنے حصے کو قبضہ میں لیا تھا میرے دادا اور میرے والد صاحب دونوں نے اپنی زنانہ اولاد یعنی بیٹیوں کو محروم کیا تھا اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے دادا اور والد کی اس تقسیم سے ہم بھی گناہ گا رہوں گے یا نہیں نیز ان کی وفات کے بعد کیا میری پھوپھیوں یا بہنوں کا اب ہمارے ساتھ جائیداد میں شرعا ً کوئی حق بنتا ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ زندگی میں ہر شخص کو اپنی ذاتی مال و جائیداد میں ہر قسم کے جائز تصرفات کا اختیار حاصل ہے کسی بھی وارث یا اولاد کو یہ حق نہیں کہ وہ حالت حیات میں مال و جائیداد کا مطالبہ کریں ہا ں اگر کوئی شخص حالت حیات میں اپنی خوشی اور رضامندی سے مملوکہ مال اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو انصاف سے کام لیکر سب کو برابر حصہ دینا چاہیے کسی کو بلا عذر شرعی کم دینے یا محروم کرنے سے گناہ گار ہوگا اور یہ گناہ واہب تک محدود رہے گا موہوب لہ تک اس کا اثر نہیں پہنچتا اسی طرح موہوب لہ جب ہبہ کو قبول کرے اور اس پر قبضہ کرے تو ہبہ تام ہو کر موہوبہ چیز واہب کی ملکیت سے نکل کر موہوب لہ کی ملکیت میں داخل ہو جائے گی اور موہوب لہ کے لیے اس میں ہر قسم کے جائز تصرفات کا اختیار ہوگا ۔ صورت مسئولہ میں بشرط صدق و ثبوت اگر سائل کے والد اور دادا نے اپنی اولاد میں سے صرف نرینہ اولاد کو اپنی زندگی میں ہبہ کیا ہو اور انھوں نے قبضہ بھی کیا ہو تو یہ ان بیٹوں کی ملکیت ہوگی دیگر ورثا کا کوئی حق نہیں بنتا تاہم اس غیر منصفانہ تقسیم پر وہ گناہ گار ہوں گے ابھی اگر مذکر اولاد اپنی مرضی و اختیار سے ان مؤنث ورثا کو کچھ دیں تو بہتر ہوگا تاکہ ان کے حق میں مرحومین سے جو حق تلفی ہوئی ہے وہ اس کو دل سے معاف کردیں ۔

ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا ۔۔۔ عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى(الفتاوى الهندية ،الباب السادس في الهبة للصغير ج4ص391)

ولو وهب جميع ماله لابنه جاز في القضاء وهو آثم (خلاصة الفتاوى ج 4 ص 400)

ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا(الفتاوى الهندية كتاب الهبة الباب الثاني ج 4 ص377)


فتویٰ نمبر : 4532/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور