بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
عقیدہ حیات الانبیاء سے متعلق سوالات
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ان مسائل کے بارے میں (1)کہ عقیدہ حیات الانبیاء علیھم السلام کیا ہے دین متین میں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے (2)اہل سنت والجماعت کے عقائدمیں سے سماع صلوۃ و سلام قبر النبیﷺ کا کیا حکم ہے (3)اس عقیدہ سے منکر کا کیا حکم ہے (4)روضہ رسول ﷺ پہ حاضری کے متعلق سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفات پر جنازہ مبارک کا لانا اور بار گاہ رسالت سے دروازہ مبارک کا کھلنا ،حضرت جامی رحمہ اللہ کے نعتیہ کلام پہ سلام کا تذکرہ ، اور حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کو روضہ مبارک میں سے سلام کا آنا ،کیا یہ سارے اور ان جیسے دیگر واقعات اہل سنت والجماعت کے عقائد کے مطابق صحیح اور درست ہیں (5)روضہ رسول ﷺپہ حاضری کے وقت بار گاہ رسالت میں شفاعت کا طلب کرنا کیسا ہے (6)حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے حضرات کو یہ کہنا کہ روضہ رسول ﷺپہ حاضری کے وقت بار گاہ رسالت میں میرا نام لیکر صلوۃ و سلام عرض کرنا شرعا ٹھیک ہے ؟
جواب
(1،2،3) حضور انور ﷺ اور دیگر تمام انبیاء کرام علیھم السلام کے بارے میں اہل سنت والجماعۃ کا یہ متفق علیہ عقیدہ ہے کہ حضرات انبیا ء کرام علیھم السلام اپنی قبروں میں اجسام عنصریہ (روح و جسم کے باہمی تعلق )کے ساتھ زندہ ہیں اور عالم برزخ میں ان کی حیات دنیوی حیات سے کم نہیں مختلف نصوص میں اس حیات کی مختلف آثار بیان ہوئے ہیں من جملہ ان آثار کے یہ بھی وارد ہے کہ اگر کوئی شخص قریب سے آپﷺپر درودو سلام پڑھے تو آپﷺ خود بلا واسطہ سماعت فرماتے ہیں اور اگر کوئی شخص دور سے پڑھتا ہے تو فرشتے آپ تک پہنچا دیتے ہیں۔ مطلق حیا ت النبی ﷺ اور قبر میں سماع النبی ﷺ سے انکار کرناان نصوص سے انکارکی بنا پرگمراہی ہے۔
(4)اللہ تعالی کے نیک اور شریعت کے پابند بندوں سے مختلف زمانوں میں بے شمار کرامات کا ظہور ہوا ہے صحابہ کرام ، تابعین اور دیگر اولیاء اللہ کرام کے بارے میں بکثرت ایسے مستند واقعات پائے جاتے ہیں اس لیےکرامات سے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہتی لہذا سوال میں مذکور واقعات اگر مستند ذرائع سے ثابت ہوں تو بطور کرامت ان کے واقع ہونے میں شرعا کوئی استبعاد نہیں۔
(5،6)چونکہ تمام انبیاء کرام خصوصا امام الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہﷺاپنی قبر میں حیات ہیں اس لیے اگر کوئی شخص روضہ اقدس کے پاس جاکر آپﷺ سے اپنے لیے دعا ءمغفرت اور سفارش کی درخواست کرے تو جائز بلکہ مستحسن ہے اسی طرح حج اور عمرہ کی ادئیگی کے لیے جانے والے حضرات کو یہ کہنا کہ روضہ رسول پہ حاضری کے وقت بارگاہ رسالت میں میرا نام لیکر صلوۃوسلام عرض کرے تو یہ بھی شرعا درست ہے ۔
حياة النبي صلى الله عليه وسلم و سائرالانبياءعليهم الصلوة والسلام معلومةعندناعلماقطعيا،لما قام عندنا من الأدلةفي ذلك و تواترت به الأخبار ،وقدألف البيهقيّ جزءافي حياة الأنبياءفي قبورهم۔۔۔أن نبينا صلى الله عليه وسلّم حي بعد وفاته وأنه يسر بطاعات أمته ويحزن بمعاصي العصاة منهم۔(الحاوي للفتاوى أنباءالأذكيا بحياة الأنبياءج2ص181،178)
عن أوس بن أوسٍ، قال: قال رسولُ الله- صلَّى الله عليه وسلم -: "إن مِنْ أفضل أيامِكُم يومَ الجُمعة: فيه خُلِقَ آدَمُ، وفيه قُبِضَ، وفيه النَّفْخةُ، وفيه الصَعقةُ، فأكثروا على مِن الصلاةِ فيه، فإن صلاتكم معروضة علي(سنن أبي داود ، باب فضل يوم الجمعة و ليلة الجمعة )
قال الشيخ خليل أحمد في شرحه ( إن الله عز و جل حرم على الأرض ) أي منعها ( أجساد الأنبياء ) أي من أن تأكلها فإن الأنبياء في قبورهم أحياء ۔(بذ ل المجهود شرح أبي داؤد ، باب الإجابةج5ص16)
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلّم من صلّى عليّ عند قبري سمعته ومن صلى على نائياأبلغته۔(رواه البيهقي في شعب الإيمان الفصل الثاني في ذكرآثار و أخبارج2ص218 )
والكرامات للأولياء حق،أي ثابت بالكتاب والسنة ،ولا عبرة بمخالفةالمعتزلة،وأهل البدعةفي إنكارالكرامة(الروضالأزهرفي شرح فقه الأ كبرص235،236 )