بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اجارہ والی زمین سے عشر ادا کرنے کا طریقہ


سوال

محمد صادق خان نے دو سو ایکڑ زمین پانچ سال کیلئے کاشت کے واسطے خریدا ہے اور اسے ایک ایکڑ 25 ہزار روپے سالانہ زمین کے مالک کو دیتے ہیں ,اب اس زمین پر سارا خرچہ مثلا ٹریکٹر ،ڈیزل ،پانی اور کھاد وغیرہ خود صادق صاحب کرتا ہے ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا زمین کا عشر اصل پیسے میں ہے یا اس کے منافع میں یا دونوں کا حساب لگا کر عشر نکالیں ؟

جواب

عشری زمین اگر ایسے پانی سے سیراب کی جاتی ہو جس پر خرچہ آتا ہو مثلا ٹیوب ویل وغیرہ سے  ۔تو اس میں  نصف عشر یعنی پیداوار کا بیسواں  حصہ  واجب ہو تا ہے اور اگر زمین بارانی پانی سے  یا ایسے پانی سے   جس پر کوئی خرچہ نہ آئے   سیراب ہوتی ہو تو اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے  اور وہ اخراجات  جو زراعت  پر ہوتے ہے یعنی  ٹریکٹر ، ڈیزل ،پانی  اور کھاد وغیرہ کے اخراجات یہ عشر ادا کرنے سے پہلے  نہیں نکالے جائیں گے  بلکہ عشر اخراجات  نکالنے سے قبل سب پیداوار سے ادا کیا جائے گا  ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر زمین سال کے اکثر حصہ میں بارش سے سیراب ہو تی ہو  تو اس میں عشر واجب ہے اور اگر زمین ٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب کی جاتی ہو  تو پھر نصف عشر یعنی  بیسواں حصہ  واجب ہے اور یہ عشر یا نصف  عشر  ٹریکٹر ،ڈیزل ،پانی اور کھاد  کے اخراجات نکالنے سے پہلے سب پیداوار سے  ادا کیا جائے گا اور عشر کا مصرف وہی ہے  جو زکوٰۃ کا مصرف ہے  یعنی  جو شخص صاحب نصاب نہ ہو اس کو عشر دیا جا سکتا ہے ۔

(و) تجب في ( مسقى سماء ) أي مطر ( وسيح ) كنهر ( بلا شرط نصاب ) ۔۔۔۔۔ ويجب نصفه في سقي غرب ودالية  لكثرة المؤنة بلا رفع مؤن ) أي يجب العشر في الأول ونصفه في الثاني بلا ربع أجرة العمال ونفقة البقر وكرى الأنهار وأجرة الحافظ ونحو ذلك ۔ (تنویر الابصار الدر الؐمختار،باب العشر ،ج3 ص269)

(مصرف الزكاة والعشر) وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة۔ (الدر المختار مع رد المحتار،باب المصرف ج2 ص339)


فتویٰ نمبر : 8790/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور