بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نفل نماز کے سجدوں میں دعا مانگنا


سوال

نفل نماز کے سجدوں کو طویل کرکے اس میں دعا کرنا کیساہے ؟ نیز نماز کے علاوہ ویسے ہی سجدے میں دعا مانگنا کیسا ہے؟

جواب

رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں بندہ کو سب سے زیادہ قرب خداوندی اس وقت  حاصل ہوتا ہے  جب وہ سجدہ  کی حالت میں ہو لہذ اسجدہ میں کثرت سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ دعا قبول  ہونے کے زیادہ لائق ہے ۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ سجدہ میں کوشش کے ساتھ دعا کیا کرو اس لیے کہ اس حالت  کی دعا اس لائق ہے کہ وہ قبول  کی جائے ۔

 چنانچہ نفل نماز کے سجدوں کو طویل کرکے اس میں دعا مانگنا جائز ہے۔تاہم اس کا لحاظ رکھا جائے کہ دعا عربی زبان میں ہو اور ایسے الفاظ اس میں نہ ہو جو لوگوں کے کلام کے مشابہ ہو مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ "اےاللہ فلاں عورت سے شادی کروادے یا اتنی مال ودولت مجھے دے دے"وغیرہ۔

نیز نماز کے  بغیر  بھی سجدہ میں دعا کرنا جائز ہے لیکن  نماز کے بعد متصل سجدہ کرنا  مکروہ ہے ۔

عن أبي هريرة  أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في سجوده اللهم اغفر لي ذنبي كله دقه وجله وأوله وآخره وعلانيته ۔ ( سنن ابی داؤد   ،الحدیث 483)

 عن أبي هريرة أن رسول الله {صلى الله عليه وسلم} قال أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد فأكثروا الدعاء۔ (الصحیح لمسلم ،ج3 ص244)

واذا سجد بغیر سبب فلیس بقربۃ ولا مکروہ ،وما یفعل  عقیب الصلوۃ مکروہ۔ (الفتاوی الھندیۃ ،کتاب الصلوۃ،باب الثاث عشر ،ج1 ص193)

ولایجوز ان یدعو فی صلاتہ بما یشبہ( کلام الناس)۔۔۔وھو مثل قولہ :اللھم زوجنی فلانۃ ،اعطنی کذا وکذا من الذھب والفضۃ ۔ (حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ،ص212) 


فتویٰ نمبر : 8736/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور