بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بھنگ کی خریدوفروخت اورکاشت


سوال

بھنگ ایک مشہور پوداہے۔ اس کے اندراللہ تعالیٰ نے مختلف خاصیات رکھی ہیں، اس لیے مختلف مقاصدکے لیے یہ استعمال ہوتاہے۔ منشیات کے علاوہ ادویہ میں بھی اس کااستعمال ممکن ہے۔ چنانچہ مختلف کیمیاوی مراحل سے گزارکراس کے نشہ آورمادہ کوختم کرکے صحت کے لیے مفیداجزاکوالگ کردیاجاتاہے جسے پھرطبی بھنگ یا Medical Cannabisکہاجاتاہے اور مختلف دواؤں میں اسے استعمال کیاجاتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: 1۔ دواؤں میں استعمال کی نیت سے بھنگ کی کاشت اورخریدوفروخت جائزہے یانہیں؟ 2۔بھنگ سے مضرصحت نشہ آوراجزاکوالگ کرنے کے بعددواؤں میں اس کااستعمال شرعاًجائزہے یانہیں؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ حکیم ذات ہے اس نے کائنات میں کوئی چیزبلافائدہ پیدانہیں کی۔ ہرچیزمیں کوئی نہ کوئی فائدہ ضرورپایاجاتاہے،اگرچہ کبھی نقصان کاپہلوظاہر وغالب ہوتاہے اس لیے انسان اسے اپنی نظرمیں نقصان دہ سمجھتاہے۔

بھنگ جوایک مشہورومعروف پوداہےاس کے اندربھی یقیناًاللہ تعالیٰ نےایسی خاصیات رکھی ہوں گی جو انسان کے لیے مفیدہوں لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ انکارحقیقت ہے کہ آج کل معاشرے میں اس کاعمومی استعمال مضرصحت منشیات کے طورپرہوتاہے۔ دنیاکے بیشترممالک میں یہ بطورِمنشیات متعارف ہے اورلاکھوں لوگ اس کے عادی بن کراپنی صحت اور زندگی کوداؤپر لگا چکے ہیں۔ دنیابھرکی حکومتیں اس کوروکنے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں لیکن بعض مخصوص علاقوں میں اس کی کاشت اور تجارت پرکنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے مختلف چوردروازوں سے  دنیابھرمیں اس کی سپلائی ہورہی ہے اوربے شمارانسان اس کے مضراثرات سے نقصان اٹھارہے ہیں۔ یوں چندافرادکامعاشی فائدہ بے شمارانسانوں کی مضرت کاباعث بن رہاہے۔

ایسے حالات میں بھنگ کی کاشت یاخریدوفروخت کی عمومی اجازت دیناشریعت کے مزاج کے خلاف ہے کیونکہ جو ناعاقبت اندیش لوگ اپنے معاشی فوائدکے لیے انسانوں  کی زندگی داؤپرلگانے سے دریغ نہیں کرتے وہ دواؤں کےلیے استعمال کو جوازبناکراس کوکاشت کریں گے اورپھرہرطرح جائزوناجائزاستعمال کے لیے کاروبارکادروازہ چوپٹ کھل جائے گا۔ اس لیے شریعت کے عمومی مزاج"دفعِ مضرت"اور"سدالذرائع" کومدنظررکھ کربھنگ کوکاشت کرنے اوراس کی خریدوفروخت کی عمومی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ تاہم حکومت کوچاہیے کہ دواؤں میں استعمال کی خاطراپنی نگرانی میں محدود پیمانے پراس کوکاشت کرے، اور کاشت کے بعداپنی نگرانی میں ہی اسے کیمیائی عمل سے گزارکراس سے نشہ آورمواد کو نکالنے کااہتمام کرے اورپھردواسازکمپنیوں کوحکومت ہی فراہم کیاکرے۔ تاکہ کسی طرح اس کے غلط استعمال کادروازہ نہ کھلنے پائے۔

2۔بھنگ کوکیمیائی عمل سے گزارنے کے بعدجب اس سے نشہ آورمادہ الگ کرلیاجائے توبقیہ مفیداجزاجوطبی بھنگ یا Medical Cannabis کہلاتاہے، اس کودواؤں میں استعمال کرنے کی شرعاًگنجائش موجودہے۔

 عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل مسكر خمر وكل مسكر حرام ومن شرب الخمر في الدنيا فمات وهو يدمنها لم يشربها في الآخرة (سنن الترمذي)

دَرْءُالْمَفَاسِدِأَوْلَى مِنْ جَلْبِ الْمَنَافِعِ۔ أَيْ: إذَا تَعَارَضَتْ مَفْسَدَةٌ وَ مَصْلَحَةٌ يُقَدَّمُ دَفْعُ الْمَفْسَدَةِ عَلَى جَلْبِ الْمَصْلَحَةِ، فَإِذَا أَرَادَ شَخْصٌ مُبَاشَرَةَ عَمَلٍ يُنْتِجُ مَنْفَعَةًلَهُ، وَلَكِنَّهُ مِنْ الْجِهَةِالْأُخْرَى يَسْتَلْزِمُ ضَرَرًامُسَاوِيًالِتِلْكَ الْمَنْفَعَةِ أَوْ أَكْبَرَ مِنْهَا يَلْحَقُ بِالْآخَرِينَ ،فَيَجِبُ أَنْ يُقْلِعَ عَنْ إجْرَاءِذَلِكَ الْعَمَلِ دَرْءًالِلْمَفْسَدَةِالْمُقَدَّمِ دَفْعُهَاعَلَى جَلْبِ الْمَنْفَعَةِ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ اعْتَنَى بِالْمَنْهِيَّاتِ أَكْثَرَمِنْ اعْتِنَائِهِ بِالْمَأْمُورِبِهَا. (درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام: المادۃ 30)

إذَاتَعَارَضَ الْمَانِعُ وَالْمُقْتَضِي يُقَدَّمُ الْمَانِعُ أَيْ إذَا وُجِدَ فِي مَسْأَلَةٍ سَبَبٌ يَسْتَلْزِمُ الْعَمَلَ بِهَاوَسَبَبٌ آخَرَيَمْنَعُ الْعَمَلَ يُرَجَّحُ الْمَانِعُ. (أيضا: المادة: 46)

(ويحرم أكل البنج والحشيشة ) هي ورق القتب ( والأفيون ) لأنه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة ( لكن دون حرمة الخمر ، فإن أكل شيئا من ذلك لا حد عليه وإن سكر ) منه ( بل يعزر بما دون الحد ) كذا في الجوهرة ،قال ابن عابدين : ومن صرح بحرمته أرادبه القدرالمسكرمنه،يدل عليه مافي غايةالبيان عن شرح شيخ الإسلام: أكل قليل السقمونيا والبنج مباح للتداوي،مازادعلى ذلك إذاكان يقتل أويذهب العقل حراماهـ۔ (رد المحتار مع الدر المختار: ج6ص457)


فتویٰ نمبر : 2773/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور