بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
پیشگی رقم دے کر وقتاًفوقتاً مبیع وصول کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اکثرہمارے معاشرے میں لوگ دوکانداروں یا گھروں سے دودھ یا کوئی اور اشیا خریدنے کے لیے پیسے مہینے کے شروع میں دیتے ہیں کہ میں تھوڑی تھوڑی چیز لیتا رہونگا تم حساب کرتے رہوجب پیسے پورے ہو جائے تو مجھے بتادینا میں پھر اور پیسے دے دونگاکیا یہ قرض پر نفع حاصل کرنا ہے یا نہیں وضاحت فرمائیں ؟
جواب
جب مشتری بائع کو پیشگی ادائیگی کرے اس شرط پر کہ وہ آئندہ اس کے عوض مختلف اشیاکی خریداری کرے گا اور اس خریداری کا حساب و کتاب ایک مقررہ وقت مثلاًمہینہ کے آخر میں لگایاجائےگاتو یہ بیع الاستجرار کہلاتا ہے بیع الاستجرار کی صحت کے لیے شرط یہ ہے کہ مبیع کی قیمت عاقدین کے درمیان پہلے سے اس طرح معلوم ہو کہ بعد میں کسی قسم کے نزاع کا اندیشہ نہ ہو اس معاملہ میں پیشگی ادائیگی کرنے سے مشتری کا مقصد بائع کو قرض دینا نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصد یکمشت ادائیگی کرکے باربار ادئیگی کی صعوبت سے چھٹکاراحاصل کرنا ہوتا ہےلہذا یہ قرض پر منفعت وصول کرنے کے حکم میں نہیں آتا۔
صورت مسئولہ میں ذکرکردہ صورت بھی بیع استجرارکے زمرے میں داخل ہےاور متاخرین فقہانے اس کو استحساناًجائز قراردیاہے لہذا اس میں شرعاًکوئی حرج نہیں بشرطیکہ عاقدین عقد سے پہلے مبیع کی قیمت اس طور پر متعین کریں کہ کسی قسم کی جہالت باقی نہ رہے۔
فروع ما يستجره الإنسان من البياع إذا حاسبه على أثمانها بعد استهلاكها جاز استحسانا ۔(الدرالمختارعلى صدرردالمحتارمطلب في بيع الاستجرارج4ص12 )
ومما تسامحوا فيه وأخرجوه عن هذه القاعدة ما في القنية الأشياء التي تؤخذ من البياع على وجه الخرج كما هو العادة من غير بيع كالعدس والملح والزيت ونحوها ثم اشتراها بعد ما انعدمت صح۔(البحرالرائق،كتاب البيع ج5ص434)