بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

آسمانی آفات میں مرنے والوں کے لواحقین کو حکومت کی طرف سے ملنے والے امداد کا حکم


سوال

حکومت کی طرف سے آسمانی آفات میں مرنے والوں کے لواحقین کو جو امداد دی جاتی ہے وہ میت کے ترکہ میں شمار ہوگی یا نہیں؟

جواب

 جو اموال بوقت وفات میت کی ملکیت میں داخل ہوں وہ میراث ہے جو ورثا میں بقدر حصص تقسیم کیے جائیں گےاور جو مال بوقت وفات اس کی ملکیت میں نہ ہو بلکہ اس کی وفات کے بعد کسی پیکج وغیرہ کی صورت میں دیا جائے وہ ترکہ میں شمار نہ ہوگا۔

   لہذا صورت مسئولہ میں حکومت کی طرف سے آسمانی آفات کی وجہ سے مرنے والوں کے لواحقین کو جو امداد ملتی ہے اس میں میراث جاری نہ ہوگا بلکہ حکومت کے قوانین کے مطابق یہ مراعات ورثا میں سے جس جس کو ملیں وہی اس کا مالک ہوگا میت کے باقی ورثا اس میں حقدار نہ ہوں گے۔

العطایا لا یورث عنہ۔(شرح الاشباہ والنظائر ج2ص495)

قال رحمہ اللہ(یبدا من ترکۃ المیت بتجھیزہ)المراد من الترکۃ ما ترکہ المیت خالیا عن تعلق حق الغیر بعینہ۔(البحرالرائق،کتاب الفرائض ج9ص365)

ولا یصح الصلح والاعتیاض لان الاعتیاض عن حق الغیر لا یصح ولا یجري فیہ الارث لان الارث انما یجري في المتروک من ملک  او حق للمورث علی ما قال علیہ الصلاۃ والسلام من ترک مالا او حقا فھو لورثتہ ولم یوجد شیئ من ذالک فلا یورث ولا یجري فیہ التداخل۔(بدائع الصنائع،کتاب الحدود ج9 ص250)


فتویٰ نمبر : 4053/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور