بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں تقسیم میراث
سوال
: اکرم خان نامی شخص کے چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ، پہلا بیٹا گل بہار نومبر 1990 میں بوجہ دشمنی فوت ہوا پھرمارچ سن 2000 میں باپ اکرم خان فوت ہوئے ، اکرم خان کی وفات کے وقت اس کے تین بیٹے (شاکر اللہ ، گوہر اللہ ، ظاہراللہ)، پانچ بیٹیاں(خاصیت ، صوفیہ ، لیاقتہ ، فہیمہ ، اشرافیہ) اور مرحوم بیٹے گل بہار کا ایک بیٹا موجود ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اکرم خان کی میراث اس کے ورثاء میں کس حساب سے تقسیم ہوگی اور دادا کی میراث میں پوتے کا حق ہوگا یا نہیں؟
جواب
میــــــــــــــــــ (اکرم خان)ــ(11)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
شاکرا للہ گوہر اللہ ظاہر اللہ خاصیت صوفیہ لیاقتہ فہیمہ اشرافی
2 2 2 1 1 1 1 1
بشرط صدق و ثبوت اگر مرحوم کے مذ کورہ ورثاء کے علاوہ اور کوئی وارث ذوی الفروض یا عصبات میں سے زندہ موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ گیارہ(11) حصوں میں تقسیم کر کے بحیثیت عصوبت لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ قاعدے کے تحت تین بیٹوں (شاکر اللہ ، گوہر اللہ ، ظاہراللہ) میں سے ہر ایک کو 2/11 حصے اورپانچ بیٹیوں (خاصیت ، صوفیہ ، لیاقتہ ، فہیمہ ، اشرافیہ) میں سے ہر ایک کو 1/11 حصہ دیا جائے گا ۔ جو بیٹا (گل بہادر) اپنے والد کی زندگی میں وفات پا چکا تھا شرعا میراث میں اس کا کوئی حصہ نہیں بنتا ، نیز جب بیٹے موجود ہوں تو پوتوں یا پوتیوں کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔
قال الله تعالى:يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ۔ (النسآء ، الاية: 11)
فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن۔(الفتاوى الهندية ، الباب الثالث فى العصبات ، ج6، ص451)