بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رضاعی بہن سے نکاح کرنا


سوال

مسماۃ عائشہ نے میرے چھوٹے بھائی مسمی حمید اللہ کے ساتھ میری والدہ محترمہ کی چھاتی سے دودھ پیا ہے تو کیا مسماۃ عائشہ کے ساتھ میرا یا میرے دوسرے بھائیوں کا نکاح جائز ہے یا نہیں اگر نکاح جائز نہ ہوتو اس سے پردہ کرنا واجب ہے یا نہیں ؟

جواب

شریعت کی رو سے جس طرح نسبی بہن بھائیوں کا آپس میں نکاح حرام ہے اور ایک دوسرے سے پردہ واجب نہیں تو اسی طرح رضاعی بہن بھائیوں کا آپس میں نکاح حرام ہے اور ایک دوسرے سے پردہ نہیں ۔

صورت مسئولہ میں جب  مسماۃ عائشہ نے سائل کی والدہ سے مدت رضاعت کے اندر دودھ پی لیا تو دودھ پلانے والی اس کی ماں اور اس کی اولاد اس کے بہن بھائی ہوئے لہذا اس عورت کے کسی بھی بیٹے کے ساتھ مسماۃ عائشہ کا نکاح جائز نہیں نیز اس عورت کی اولاد اور مسماۃ عائشہ کا ایک دوسرے سے پردہ کرنا واجب نہیں بشرطیکہ فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو البتہ مسماۃ عائشہ کے دیگر بہن بھائیوں کا اس عورت کی اولاد کے ساتھ چونکہ رضاعت کا کوئی رشتہ نہیں اس لیے ان کا آپس میں ایک دوسرے سے پردہ کرنا واجب ہے اور نکاح جائز بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو ۔

وفي الخلاصة :يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأوصولهماوفروعهما من النسب والرضاع جميعا۔۔۔وكذافي الجد والجدة۔(الفتاوى التاتارخانية،كتاب الرضاع ج3ص168)

عن عائشة قالت جاء عمي من الرضاعة يستأذن علي فأبيت أن آذن له حتى أستأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت إن عمي من الرضاعة استأذن علي فأبيت أن آذن له فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فليلج عليك عمك قلت إنما أرضعتني المرأة ولم يرضعني الرجل قال إنه عمك فليلج عليك(صحيح مسلم،كتاب الرضاع ج1ص467)


فتویٰ نمبر : 6187/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور