بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ناچ اور موسیقی پر مشتمل تقریب میں شرکت کرنا


سوال

: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ موجودہ دور میں کوئی بھی شادی ناچ گانے سے خالی نہیں ہوتی اور اسی طرح خلاف شرح امور پر مشتمل ہوتی ہے تو کیا اس طرح کی دعوت میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان کی دعوت قبول کرنی چاہیےلیکن اس شرط پر کہ وہ دعوت غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہو تاہم جہاں کہیں کوئی دعوت یا محفل غیر شرعی امور پر مشتمل ہو تو اس میں شرکت نہ کرنا ضروری ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جو تقریبات ناچ ،گانے اور میوزک جیسے خرافات پر مشتمل ہو اور پہلے سے یقینی طور پر اس بات کا علم ہو کہ وہاں گانے ، میوزک وغیرہ خرافات کا ارتکاب کیا جارہاہےتو ایسی دعوت میں شرکت جائز نہیں  تاہم اگر پہلے سے علم نہ ہواور وہاں پر جانے کے بعد معلوم ہو جائے کہ یہ دعوت اور ولیمہ موسیقی جیسے حرام امور پر مشتمل ہے تو عوام کے لیے کھانے کی گنجائش ہے جب کہ علما اور پیشوا لوگوں کے لیے ایسی صورت میں دعوت ولیمہ کی مجلس کو چھوڑ کر  وہاں سےجانا چاہیےتاکہ لوگ اس کی ناراضگی سے عبرت حاصل کریں اور اہل دین کی بدنامی بھی نہ ہو ۔

من دعي الى وليمةوثمة لعب أو غناء قعد وأكل ۔۔۔ إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان مقتدى  ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعدلأن فيه شين الدين ۔۔۔ وإن علم أولا باللعب  لا يحضر أصلا ۔(الدر المختارعلى صدرردالمحتار كتاب الحظر والاباحةج9ص502،501 )


فتویٰ نمبر : 4530/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور