بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
دومرتبہ طلاق دےکررجوع کرنے کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دینا
سوال
کیافرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری اپنی بیو ی کے ساتھ کشیدگی واقع ہوئی تھی،اورروزمرہ کی بنیاد پر ناچاقیوں کی وجہ سے ہروقت لڑائی کی صورتحال رہتی تھی۔چونکہ اس تمام تر کشیدگی کی بنیادی وجہ میری بیوی کی چچازاد بہن اور میری بہن تھی،اسلئےایک موقع پرمیں نے بیوی سے کہہ دیا کہ اگرآپ آئندہ اپنی چچازادبہن سے مل گئی توتجھے طلاق ہے، یہی الفاظ اپنی بہن کے بارے میں بھی کہہ دئیے کہ اگر آپ آئندہ کبھی میری بہن سے مل گئی توتجھے طلاق ہے۔ اس کے بعد وہ ان دونوں سے مل گئی تھی لیکن مجھے پتہ نہیں چلاتھااس لیے میں اس کے ساتھ حسب سابق ازدواجی تعلق برقرار رکھ کر حقوق زوجیت اداکرتا رہا۔ایک طویل عرصہ بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ توان دونوں سے مل چکی ہے۔اس لئے میں نے اسے والدین کے گھر بھیج دیا،اس کے بعد میرے رشتہ داروں میں سے چندبڑوں نےمصالحت کی اور اسے واپس میرے گھر لے آئے،لیکن اس تنازعہ کو الجھاکراس سطح کی چپقلش پیداکرنے میں اس کے بھائی کابنیادی کردارتھااس لیےمصالحت کے دوران میں نے یہ شرط لگائی کہ آئندہ کے لیےتم اپنے بھائی سے میل جول ختم کرو گی اور اگر کبھی اس سے مل گئی ،یااس سے بات کی توہمارارشتہ زوجیت ختم ہوگااورمیرے اور آپ کے درمیان کسی بھی قسم کاازدواجی تعلق باقی نہیں رہے گا۔لیکن اس کےباوجود وہ اپنے بھائی سے مل گئی ہے۔ا ب پوچھنایہ ہے کہ کیااب میری بیوی مجھ پرحرام ہوچکی ہے یانہیں؟
جواب
شریعت نےشوہرکوتین طلاقوں کااختیار دیاہے،ایک یادو مرتبہ صریح الفاظ سے طلاق دینے کے بعد عدت ختم ہونےسے پہلےاسے رجوع کاحق حاصل ہوتاہے۔ اگرعدت گزرجائے اور اس نے رجوع نہیں کیا توان کاآپس میں زوجیت کارشتہ ختم ہوجاتاہے۔البتہ تجدیدنکاح کے بعد دوبارہ ازدواجی تعلق قائم ہوسکتاہے،لیکن اگر اس نے تیسری طلاق بھی وےدی تواب یہ حرمت مغلظہ کے ساتھ اس پرحرام ہوگئی لہذا اب نہ وہ رجوع کرسکتاہے اور نہ تجدیدنکاح۔
صورت مسؤلہ میں سائل نے جب ایک موقع پراپنی بہن سے بیوی کی ملاقات کے ساتھ اس کی طلاق کومعلق کیااوردوسری مرتبہ بیوی کی چچازاد بہن سے اس کی ملاقات کے ساتھ ،اورپھران دونوں سے بیوی کی ملاقات بھی ہوگئی تواس سے بیوی کودوطلاقیں واقع ہوگئیں،اس کے بعداگرسائل نےعدت کے دوران اس کے ساتھ زوجیت کاتعلق باقی رکھا ہوتورجوع متحقق ہوگیا، اس کے بعد سائل کے پاس ایک طلاق کااختیار باقی تھا لیکن جب اس نے تیسری باربیوی کی اپنےبھائی سےبات چیت اورملاقات کے ساتھ کنائی الفاظ سے طلاق کومعلق کیاتواگرو اقعی بیوی اس کے بعد اپنے بھائی سے مل چکی ہے تواب یہ شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،اور ان کے درمیان رشتہ زوجیت مکمل طور پر ختم ہوچکاہے۔
"قال الله تعالى: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۔۔۔۔فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" (البقرة،229،230)
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق".( الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع،الفصل الثالث،ج1ص420)
"وإن كان الطلاق ثلاثافي الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها".(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق، الباب السادس،ج1ص535)