بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
دوبھائیوں کےدرمیان بہن کےترکہ کی تقسیم
سوال
کیافرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری پھوپھی مسماۃ ظرافتہ بی بی بنت ایوب گل جوکہ ایک غیرشادی شدہ عورت تھی فوت ہوچکی ہےمرحومہ کے چاربھائی اور ایک بہن تھی جوکہ اپنے والدمسمی ایوب گل مرحوم کی حیات میں فوت ہوچکی تھی۔جبکہ چاربھائیوں میں سے دو مسمیان گلاب گل وجان گل پسران ایوب گل اپنے والد کے بعداورمسماۃ ظرافتہ بی بی دخترایوب گل کی حیات ہی میں فوت ہوگئے ہیں۔اوردوبھائی مسمیان خان گل اور ہمیش گل پسران ایوب گل زندہ ہیں،جبکہ دومرحومین بھائیوں کی اور ایک مرحومہ بہن کی بنین اوربنات کی شکل میں اولاد موجود ہے۔لہٰذااستدعا ہے کہ مسماۃ ظرافتہ بی بی دختر ایوب گل کاترکہ ازروئےشرع شریف کیسے تقسیم ہوگا؟
جواب
مـــــــ(2)ـــــ(ظرافتہ بی بی)ـــــــــــــــــیت
بھائی (خان گل) بھائی(ہمیش گل)
1 1
بشرط صدق و ثبوت اگر مرحومہ ظرافتہ بی بی کامذکورہ بالاورثا کے علاوہ اور کوئی زنده وارث ذوی الفروض یاعصبات میں سے موجود نہ ہو تو بعدازاداےحقوق متقدمہ علی الارث مرحومہ کےکل مال وجائیداد کودو(2) حصوں میں تقسیم کرکے خان گل اور ہمیش گل میں سے ہرایک كو آدھا آدھاحصہ دیاجائے گا۔جب کہ مرحومہ سے پہلے فوت ہوجانے والے بھائیوں اور بہن کا اس کے میراث میں کوئی حصہ نہیں ۔نیزبھائیوں کی موجودگی میں بھتیجوں اور بھتیجیوں کو بھی کوئی حصہ نہیں ملتا۔
"والعصبة كل من يأخذ ماأبقته أصحاب الفرائض وعندالانفراديحرزجميع المال" (السراجي في الميراث،ترتيب تقسيم التركة،ص9)
"أماالعصبة بنفسه فكل ذكرلاتدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف،جزء الميت وأصله وجزءأبيه وجزء جده،الأقرب فالأقرب ،يرجحون بقرب الدرجة،أعني أولاهم بالميراث جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وإن سفلوا،ثم أصله أي الأب ثم الجد أي أب الأب وإن علا،ثم جزءأبيه أي الإخوة ثم بنوهم وإن سفلوا الخ"(السراجي في الميراث،ترتيب تقسيم التركة،ص36)