بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شفعہ کے لیے قاضی کے پاس جانے کی بجائے امام مسجد سے فیصلہ کروانا


سوال

موجودہ دور میں شفعہ کے لئے  قاضی  کے پاس جانا ضروری ہے یا امام مسجد بھی یہ فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ آجکل عدالتی نظام میں بعض اوقات دس،  پندرہ سالوں تک فیصلہ نہیں ہوتا ،  براہ کرم رہنمائی فرمائیں؟

جواب

کسی تنازع کے فریقین اگر ذاتی مجبوریوں یا دیگروجوہات کی بناء پر اپنے تنازع کو حل کرنے کا اختیار  حکومت کی کسی عدالت کی بجائے کسی شخص  کو دیں تو شرعا یہ تحکیم کہلاتا ہے ۔ تحکیم  کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ فریقین برضا و رغبت اپنے فیصلہ کا اختیار حَکم کو دیں اور فیصلہ سے قبل کوئی فریق بھی رجوع نہ کرے  چنانچہ اگر کسی فریق نے فیصلہ سے قبل رجوع کیا   اور حَکم کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تو  حَکم کا فیصلہ لازم نہ ہوگا اور اگر  حکم تحکیم کی جملہ شرائط کی رعایت کرتے ہوئے  فیصلہ کرے تو وہ فیصلہ لازم ہوگا چنانچہ فیصلہ کے بعد کسی فریق کے لئے انکار کی گنجائش نہ ہوگی۔

           صورت مسئولہ کے مطابق فریقین اگر  شفعہ کے فیصلہ کے لئے عدالت جانے کی بجائے امام مسجد کو برضا ورغبت اپنا حَکم بنائیں   تو شرعا  یہ تحکیم کے حکم میں داخل ہے  چنانچہ تحکیم کی شرائط کی رعایت کے ساتھ حکم جو فیصلہ کرے گا  وہ فریقین پر ماننا لازم ہوگا۔

قوله ( صح لو في غير حد وقود الخ ) شمل سائر المجتهدات من حقوق العباد ۔۔۔۔ قوله ( في كل المجتهدات) أي المسائل التي يسوغ فيها الاجتهاد من حقوق العباد كالطلاق والعتاق والكتابة والكفالة والشفعة والنفقة والديون والبيوع بخلاف ما خالف كتابا أو سنة وإجماعا۔ (رد المحتار، كتاب القاضي، باب التحكيم، ج8، ص127،128)

( فإن حكم لزمهما ) لصدوره عن ولاية شرعية فلا يبطل حكمه بعزلهما۔  (البحر الرائق، كتاب الحوالة، باب التحكيم، ج7، ص44)


فتویٰ نمبر : 2770/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور