بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
شریک بھائیوں کی مشترکہ قربانی میں گوشت کی تقسیم
سوال
ایک ہی گھر میں چار پانچ بھائی مشترکہ قربانی کریں تو کیا وہ بھی گوشت وغیرہ وزن کے اعتبار سے تقسیم کریں گے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ قربانی کے بڑے جانور میں شریک افراد کے مابین گوشت کی تقسیم ایسے طریقہ سے کی جائے کہ جس میں کسی شریک کی حق تلفی کا اندیشہ نہ رہےاور نہ ہی سود کا شبہ پیدا ہو چونکہ گوشت وزن سے تقسیم کرنے میں کسی شریک کی حق تلفی کا اندیشہ اور سود کا شبہ باقی نہیں رہتا اس لئے وزن کے بغیر اندازے سے تقسیم درست نہیں البتہ اگر گوشت کے ساتھ کچھ حصوں میں پائے ، مغز اور کھال کو شامل کیا جائے تو اس صورت میں اندازے سے تقسیم درست ہوگی ایسے ہی تمام شرکاء کی رضامندی سے فقراء پر تقسیم اور صدقہ کرنے کے لئے بھی گوشت کا وزن کرنا ضروری نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر تمام شرکاء ایک گھر میں ہی رہتے ہوں اور سب اس بات پر متفق ہوں کہ گوشت تقسیم نہ کیا جائے بلکہ ایک ہی جگہ پر پکا کر کھایا جائے تو ایسی صورت میں وزن کر کے تقسیم کرنا لازم نہیں لیکن اگر کوئی شریک اپنا حصہ الگ طلب کرے تو ایسی صورت میں وزن کر کے تقسیم لازم ہوگی۔
(ويقسم اللحم وزنالا جزافا إلا إذا ضم معه من الأكارع أو الجلد ) صرفا للجنس لخلاف جنسه ۔ (الدر المختار، باب جناية البهيمة ، ج6 ص317)
قوله ( ويقسم اللحم ) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لاوالظاهر أنها لا تشترط لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت وفي فتاوى الخلاصة و الفيض تعليق القسمة على إرادتهم وهو يؤيد ما سبق غير أنه إذا كان فيهم فقير والباقي أغنياء يتعين عليه أخذ نصيبه ليتصدق به اه ط وحاصله أن المراد بيان شرط القسمة إن فعلت لا أنها شرط لكن في استثنائه الفقير نظر إذ لا يتعين عليه التصدق كما يأتي نعم الناذر يتعين عليه فافهم
قوله ( لا جزافا ) لأن القسمة فيها معنى المبادلة ولو حلل بعضهم بعضا قال في البدائع أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفة ۔۔۔ قوله ( إلا إذا ضم معه إلخ ) بأن يكون مع أحدهما بعض اللحم مع الأكارع ومع البعض الآخر مع الجلد۔ (رد المحتار ، كتاب الأضحية ، ج6، ص317)