بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رسالے یا مونو گرام پر آیات قرآنی لکھنا


سوال

ہمارے جامعہ عثمانیہ کا ماہنامہ رسالہ جو کہ "العصر" کے نام سے موسوم ہے اس کے اوپر سورۃ العصر کی ابتدائی دو آیتیں درج ہیں پہلی "والعصر "کو جلی حروف میں ہائی لائٹ کیا ہے کیا قرآن میں "والعصر "کا نزول اس بارے میں ہوا ہے اس سے یہ رسالہ مراد لینا اور اس کیلئے استعمال کرنا جائز ہے یانہیں ؟ (2)بعض مدارس کا جو نام ہوتا ہے اسی مناسبت سے قرآنی آیت یا حدیث کااستعمال اور اپنے مونو گرام پر اس کی نقش بھی کرتے ہیں مثلا مدرسہ کا نام "دار السلام "ہے تو وہ یہ آیت "واللہ یدعو الی دار السلام "کومونو گرام پر لکھتے ہیں کسی کا نام قاسم العلوم ہے تو وہ یہ حدیث"انا قاسم واللہ یعطی " کا استعمال کرتے ہیں کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟ (3) ماہنامہ "العصر" پر دوسری آیت "ان الانسان لفی الخسر" مذکور ہے تو مستثنی کا ذکر ضروری ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سارے انسان خسارے میں ہیں کیا مستثنی کے بغیر مستثنی منہ پر اکتفاء جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

قرآن کریم اللہ جل شانہ نے بندوں  کے رشد وہدایت کیلئے   نازل فرمایا ہے  جس میں زندگی کے ہر پہلو سے متعلق  احکام خداوندی کا تذکرہ ملتا ہے   تاہم محض دنیوی  مفادات یا کسی غلط نظریہ کی ترویج کے لئے  آیات قرآنیہ کا استعمال  جائز نہیں ،یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم  کی آیات   کی ایسی تفسیر  جو شرعی تعلیمات سے متصادم ہو جائز  نہیں ،البتہ  شرعی حدود  کے تحت  قرآنی آیات    سے استنباط واستدلال  یا اقتباس جائز ہے۔صورت مسؤلہ میں :

(1)چونکہ قرآنی آیت   واو کے ساتھ یعنی"والعصر" ہے  نہ کہ"العصر" بغیر واو کے ،اسی طرح "دار السلام "بھی پوری آیت نہیں بلکہ آیت  کے دو کلمے ہیں  اور جس طرح قرآن کریم میں  مذکورہ اسماء (زکریا،یحیی،ابراہیم اور زید وغیرہ )میں سے کسی کا نام رکھنا  شرعا جائز   ہے  اسی طرح کسی آیت کے ایک کلمہ کو مثلا العصر یا دو کلموں کومثلا دار السلام  کسی ادارے یا مدرسے کا نام  رکھنا  جائز ہے ایسی صورت میں نام رکھنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں  قرآن کریم کی آیت  کانزول اسی  کے متعلق ہوا ہے  اور نہ یہ مطلب درست ہے کہ آیت کا   بہر صورت  مصداق یہی ہے   یہ تو صرف  بطور علامت  وشناخت اور تبرک کیلئے رکھا جاتا  ہے ۔تاہم اگر کسی مدرسہ  وغیرہ کا نام "دار السلام " ہو تو اس کے  مونو گرام پر  "واللہ یدعو الی  دار السلام " لکھنا   چونکہ تخصیص  کا سبب بن سکتا ہے لہذا ایسی صورت میں    مذکورہ آیت لکھنے  سے اجتناب کرنا چاہئے کہیں ایسا  نہ ہو  کہ یہ اقتباس مذموم  کے زمرہ میں داخل ہو کر تحریف شمار  کی جائےجو کہ جائز نہیں ۔

(2) دوران کلام  یعنی نثر میں   قرآنی آیت ذکر کرنا اقتباس کہلاتا ہے ۔اقتباس کے جائز اور ناجائز ہو نے سے متعلق تفصیل یہ ہے کہ  اگر ذکر کیا جانے والا مضمون قرآنی آیت کی تفسیر سے موافق ہو یعنی مضمون میں استدلال یا استنباط کے طور پر قرآنی آیت ذکر کی جائے  اور واقعی وہ مضمون اسی آیت سے معلوم ہوتا ہو نیز اس میں شرعی حدود سے تجاوز نہ ہو  تو ایسی صورت میں کلام کے درمیان یا شروع میں قرآنی آیت لانا جائز ہو گا لہذا اگر رسالے کے شروع  میں یا ٹائیٹل پر   کوئی آیت یا حدیث لکھی جائے  اور آنے والے مضمون میں اس کے  مفہوم  کی رعایت بھی ہو  تو شرعا ایسا اقتباس جائز ہے ۔

نیز اہل زبان کے ہاں حسن ابتداء یعنی کلام کے شروع میں ایسے مناسب  اور ٖفصیح وبلیغ جملے لانا  جو  مابعد والے مقصد اور پیغام پر  دلالت کرنے والے ہوں مستحسن ہے  دراصل یہ بھی صورت مسؤلہ کیلئے جواز کی دلیل بن سکتی ہے  کہ کسی رسالے وغیرہ کے شروع میں ایسی آیت یا حدیث ذکر کی جائے جس کے مفہوم کی رعایت مابعد والے مضمون  میں رکھی جائے  ۔تاہم اگرقرآنی آیت ذکرکی جائے اورمضمون  میں  اس کے مفہوم کی  رعایت نہ ہو  بلکہ قرآنی آیت اور حدیث سے ایسا استدلال و استنباط   کیا گیا ہو جو شریعت  سے متصادم ہو  تو شرعا یہ تحریف معنوی کے مترادف ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔

(3) جہاں تک مستثنی کو چھوڑ کر  مستثنی منہ پر اکتفاء کا مسئلہ ہے تو  چونکہ "ان الانسان لفی  خسر"ایک  مستقل آیت ہے جس میں مبتدا اور خبر دونوں مذکور ہیں  ۔ایسی صورت میں مستثنی منہ  کے ذکر پر اکتفاء کرنا اقتصار کہلاتا ہے جو کہ جا ئز ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے انسان   خسارے میں ہیں  اور خسارے سے   خلاصی اور نکلنے کی کوئی راہ نہیں  بلکہ بطور اقتباس میں   ان دو آیتوں  "والعصر  ان الانسان  لفی خسر"پر اقتصار کیا گیا ہے ۔

 النوع الثلاثون: في أنه هل يجوز في التصانيف والرسائل والخطب استعمال بعض آيات القرآنوهل يقتبس منه في شعر ويغير نظمه بتقديم وتأخير وحركة إعراب ۔۔۔جوز ذلك بعضهم للمتمكن من العربية وسئل الشيخ عز الدين فقال ورد عنه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَجَّهْتُ وَجْهِيَ" والتلاوة {إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ}(البرهان في علوم القرآن ،ج1 ص565)

- الاقتباس تضمين الشعر أو النثر بعض القرآن لا على أنه منه بأن لا يقال فيه قال الله تعالى ونحوه فإن ذلك حينئذ لا يكون اقتباسا۔۔۔ فسئل عنه الشيخ عز الدين ابن عبد السلام فأجازه واستدل له بما ورد عنه من قوله في الصلاة وغيرها وجهت وجهي إلى آخره وقوله اللهم فالق الإصباح وجاعل الليل سكنا والشمس والقمر حسبانا اقض عني الدين واغنني من الفقر ۔- وهذا كله إنما يدل على جوازه في مقام الموعظ والثناء والدعاء وفي النثر لا دلالة فيه على جوازه في الشعر وبينهما فرق فإن القاضي أبا بكر من المالكية صرح بأن تضمينه في الشعر مكروه وفي النثر جائز ۔(الاتقان في علوم القرآن ،فصل في الاقتباس وما يجري مجراه،ج1ص111)

الاقتباس من القرآن جائز عندنا  تنبيه قولهم أن تضع الحرب أوزارها اقتباس من القرآن وبه يستدل على جوازه عندنا كما بسطه الشارح في الدر المنتقى ۔(رد المحتار،كتاب الجهاد، باب المغنم وقسمته،ج6 ص254)

الاقتباس  ھو ان یضمن الکلام شیا من القرآن او الحدیث  لا علی انہ منہ ۔اقد اختلف اھل العلم  فی الاقتباس من حیث جواز ہ وعدم جوازہ  فقال بعضھم یجوز فی النثر ولا یجوز فی النظم  لانہ اذا اقتبس  فی النظم  صار القرآن شعرا وھذا لا یجوز ،اما فی النثر فلا باس بہ ۔۔۔ولا یجوز ان تشیر بالآیۃ  الی معنی لایراد بھا ،لان ھذا تنزیل لکلام اللہ تعالی علی غیر معناہ وھذا لا یجوز ۔(شرح البلاغۃ،لمحمد بن صالح العثیمین  ص372)

قال ابن رستیق:ان حسن الافتتاح داعیۃ الانشراح ومطیۃ النجاح وتزداد براعۃ المطلع حسنا  اذا دلت علی المقصود باشارۃ لطیفۃ وتسمی براعۃ الاستہلال وھی ان یاتی الناظم او الناثر  فی ابتداء کلامہ بما یدل علی مقصودہ منہ بالاشارۃلا بالتصریح ۔(جواہر البلاغۃفی المعانی والبیان والبدیع،خاتمۃ البدیع،ص437)


فتویٰ نمبر : 4528/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور