بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
جائے ملازمت میں قصر کرنا
سوال
میرا تعلق چارسدہ سے ہے اور میں تقریبا پچھلے پانچ سال سے اسلام آباد میں نوکری کررہا ہو ں یہ فاصلہ 200 کلو میٹرسے کچھ زیادہ بنتا ہے میں عموما ہر جمعہ کو گھر جاتا ہوں اور پیر کو واپس دفتر آتا ہوں ان پانچ سالوں میں کبھی 13 دن سے زیادہ قیام نہیں کیا نوکری سے پہلے میں اسلام آباد میں پڑھتا تھا تو اس وقت میرا قیام 14 دن سےاکثر زیادہ ہوتی تھی اور میں پوری نماز پڑھتا تھا ۔پڑھائی پوری ہونے کے بعد میں تقریبا 7-8 مہینے کے لیے اپنے گھر یعنی چارسدہ میں مقیم رہا ۔اسکے بعد نوکری کا سلسلہ شروع ہوا ۔کیا اب میں اسلام آباد میں اکیلے نماز قصر پڑھوں گا یا پوری نماز؟
جواب
اگر کوئی شخص سفر کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے تو جب تک وطن اصلی واپس نہ لوٹے یا کسی جگہ میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے اس وقت تک مسافر رہے گا اور قصر نماز پڑھے گا تاہم اگر پوری نماز ادا کی تو فریضہ ساقط ہو جائے گا لیکن گناہ گار ہوگا ۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے پڑھائی پوری ہونے کے بعد اسلام آباد کو مکمل طورپر چھوڑدیا تھا اور وہاں پر رہائش کو ختم کردیا تھا تو اس سے وطن اقامت ختم ہوگئی تھی لہذا نوکری کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد وہاں مسافر شمار ہوگا اور اب قصر نماز ادا کرنا اس پر واجب ہے لیکن اگر پڑھائی ختم ہونے کے بعد اسلام آباد کومکمل چھوڑنے کا عزم نہیں کیا تھا تو نوکری کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد بھی وہ مقیم ہی شمار ہوگا اور پوری نماز پڑھے گا ۔
والقصر واجب عندنا كذا في الخلاصة فإن صلى أربعا وقعد في الثانية قدر التشهد أجزأته والأخريان نافلة ويصير مسيئا لتأخير السلام۔(الفتاوى الهندية كتاب الصلوة ، باب الخامس عشر في صلوة المسافر ج1ص139)
ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر كذا في الهداية۔۔(الفتاوى الهندية كتاب الصلوة ، باب الخامس عشر في صلوة المسافر ج1ص139)