بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
قبولیت توبہ سے متعلق ایک روایت کی تحقیق
سوال
کیایہ واقعہ کسی حدیث سے ثابت ہے؟ کہ ایک عورت نے ایک صحابی سے کہا کہ میں نےزنا کیاتھاجس کے نتیجے میں میرا ایک بچہ پیدا ہوا پھر میں نے اس بچے کوقتل کیا۔کیااب میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟تواس صحابی نے کہا کہ نہیں ہوسکتی۔یہ سن کر عورت بےہوش ہوگئی ،پھر اس صحابی نے یہ مسئلہ نبی کریمﷺ سے پوچھاتوآپ نے فرمایا کہ آپ نے خود کوبھی ہلاکت میں ڈال دیا اور اس عورت کوبھی۔اس کی توبہ قبول ہوجائےگی ۔ یہ واقعہ میں نے ایک شخص سے سنا ہے کیا یہ سچ ہے کہ نہیں؟
جواب
یہ واقعہ کسی معتبر کتاب میں ہمیں نہیں مل سکا۔چونکہ نہ تو اس واقعے کے ساتھ سائل نے کوئی حوالہ درج کیاہے اور نہ ہی کوئی عربی عبارت،تاکہ اس کی تخریج کی جاسکے۔لہٰذا جس سے یہ واقعہ سنا ہے اسی سے پوچھا جائے کہ یہ واقعہ مستند ہے یا نہیں؟ نیز اس واقعے کی نسبت چونکہ رسول اللہ ﷺ کی طرف کی جارہی ہے لہٰذاجب تک اس کی معتبر سند معلوم نہ ہوتب تک اس کی نسبت آپﷺ کی طرف کرنا جائز نہیں ۔ارشادنبوی ہےکہ جس نے مجھ پرجھوٹ باندھا وہ اپنے لیے جھنم میں گڑھا تیار کرے۔
"حدثنا أبو هشام الرفاعي حدثنا أبو بكر بن عياش حدثنا عاصم عن زر عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار"(سنن الترمذي،باب ما جاء في تعظيم الكذب على رسول الله صلى الله عليه و سلم،رقم،2659ج5ص35)