بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پڑوس کے حدود


سوال

کتب احادیث میں پڑوسی کے حقوق کے بارے میں بہت تاکید آئی ہے یہاں تک کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے ان تاکیدوں سے یہ گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث بنا کر رہیں گے ۔ مفتی صاحب : دریافت طلب امر یہ ہے کہ پڑوس کا اطلاق کہاں تک اور کتنے گھروں تک ہوتا ہے ؟ ہمارے ہاں بعض حضرات کہتے ہیں کہ چاروں اطراف کے چالیس گھر پڑوس میں آتے ہیں اس بارے میں اگر فقہائے کرام نے کوئی تصریح فرمائی ہو تو رہنمائی فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

جواب

احادیث مبارکہ میں پڑوسیوں کے ساتھ  حسن سلوک کرنے اور ان کے دکھ درد کو بانٹنے اور ان کو کسی قسم کی تکلیف وپریشانی میں مبتلا نہ کرنے کی تاکید آئی ہے ، چنانچہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اس سلسلے میں اللہ تعالی کی طرف سے آپﷺ کو اس طرح  تواتر اور پابندی کے ساتھ حکم دیتے رہے کہ آپﷺ نے یہ گمان فرما لیا تھا  کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام شاید کسی  وقت یہ وحی لیکر  نازل ہوں کہ پڑوسی آپس میں ایک دوسرے کے وارث بھی ہو ں گے ۔

پڑوس کی تعیین کے بارے میں علامہ ابن حجر ؒ نے فتح الباری میں چند اقوال ذکر کیے ہیں جو درجہ ذیل ہیں :

(1)حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جس کو  آواز سنائی دے وہ پڑوسی ہے ۔

(2) بعض کے نزدیک جو صبح کی نماز ایک مسجد میں پڑھتے ہو ں وہ آپس میں پڑوسی ہیں۔

(3)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  سے منقول ہے کہ ہر جانب کے چالیس (40) گھر پڑوس ہے اور یہی امام اوزاعی ؒ سے بھی منقول ہے ۔اس قول کی تائید میں طبرانی میں ایک مرفوع روایت بھی حضرت کعب بن  مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے موجود ہے ۔تاہم اس کی تشریح میں دو قول ہیں ایک یہ ہے کہ ہر جانب کے چالیس چالیس گھر  اور دوسرا یہ ہے کہ ہر طرف دس دس گھر اور مجموعی طور پر چالیس گھر پڑوس میں شامل ہیں ۔واللہ تعالی اعلم 

واختلف في حد الجوار فجاء عن علي رضي الله عنه من سمع النداء فهو جار وقيل من صلى معك صلاة الصبح في المسجد فهو جار وعن عائشة حد الجوار أربعون دارا من كل جانب وعن الأوزاعي مثله وأخرج البخاري في الأدب المفرد مثله عن الحسن وللطبراني بسند ضعيف عن كعب بن مالك مرفوعا ألا إن أربعين دارا جار وأخرج بن وهب عن يونس عن بن شهاب أربعون دارا عن يمينه وعن يساره ومن خلفه ومن بين يديه وهذا يحتمل كالأولى ويحتمل أن يريد التوزيع فيكون من كل جانب عشرة (فتح الباری ج10ص447)


فتویٰ نمبر : 4515/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور