بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
احتیاطی تدبیر کے طور پر صفوں کے درمیان فاصلے کا حکم
سوال
جمہور فقہائے احناف کے نزدیک صفوں کے درمیان مقتدیوں کے دائیں بائیں اتصال کا کیا حکم ہے؟(2) کیا وبائی امراض اور وائرس کی وجہ سے حفاظتی اقدامات کے طور پر مقتدیوں کا دائیں بائیں ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر کھڑا ہونا درست ہے ؟(3) اگر انتظامیہ فاصلے سے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر اصرار کرے تو ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
جواب
(1) حدیث میں صفوں کی درستگی اور مل مل کر کھڑے ہونے کی تاکید وارد ہوئی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کی درستگی کا بہت اہتمام فرماتے تھے اور درمیان میں خلا چھوڑنے سے منع کرتے تھے ۔ایک حدیث میں آپ علیہ السلام نے صفوں کی درستگی کو کمال نماز فرمایاہے ۔اسی بناء پر فقہائے کرام نے صفوں کی درستگی اور مل مل کر کھڑے ہونے کو مسنون قرار دیا ہے۔
(2) موجودہ حالات میں کرونا وائرس کے سبب اگر ماہرین طب کی یہ رائے ہو کہ نماز میں دو مقتدیوں کے درمیان فاصلہ رکھنا ضروری ہے ۔اور اسی بناء پرحکام کی طرف سے اسے لازمی قرار دیا جائےتو ایسی صورت میں باہم فاصلے سے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی گنجائش موجود ہے اور اس سے نماز ادا ہوجائے گی۔
(3) اگر انتظامیہ فاصلے سے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر اصرار کرے جبکہ حکام اور ماہرین طب کی طرف سے بھی یہی حکم ہو توایسی صورت آئمہ حضرات کو مل مل کر کھڑے ہونے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے البتہ اگر کوئی عذر یا مجبوری نہ ہو تو مقتدیوں کو مل مل کرکھڑے ہونے اور صفوں کی درستگی کی اہمیت بتائی جائی اگر پھر بھی بات نہ مانیں تو امام پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں نماز بہر صورت ادا ہوجائے گی۔
عن أبي بكرة أنه انتهى إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو راكع فركع قبل أن يصل إلى الصف فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال زادك الله حرصا ولا تعد۔ (الصحيح للبخاري،باب اذا ركع دون الصف حديث783، ج1،ص256)
عن أنس قال: قال رسول الله: " سَووا صفوفكم، فإن تسوية الصف من تمام الصلاة "ثم إن تَسوية الصفوف من سُنة الصلاة عند أبي حنيفة ومالك والشافعي،وزعم ابن حزم أنه فرض ، لأن إقامة الصلاة فرض، وما كان من الفرض فهو فرض ، قال عليه السلام: "فإن تسوية الصف من تمام الصلاة . قلنا: قوله: فإنه من حُسن الصلاة يدل على أنها ليْست بفرضِ ، لأن ذلك أمر زائد على نفس الصلاة، ومعنى قوله: من تمام الصلاة : من تمام كمال الصلاة، وهو- أيضاً- أمر زائد، فافهم۔(شرح ابي داؤد للعيني،باب تسوية الصفوف،حديث 649،ج3،ص218)
وَيَنْبَغِي لِلْقَوْمِ إذَا قَامُوا إلَى الصَّلَاةِ أَنْ يَتَرَاصُّوا وَيَسُدُّوا الْخَلَلَ وَيُسَوُّوا بين مَنَاكِبِهِمْ في الصُّفُوفِ وَلَا بَأْسَ أَنْ يَأْمُرَهُمْ الْإِمَامُ بِذَلِكَ وَيَنْبَغِي أَنْ يُكْمِلُوا ما يَلِي الْإِمَامَ من الصُّفُوفِ ثُمَّ ما يَلِي ما يَلِيهِ وَهَلُمَّ جَرًّا وإذا اسْتَوَى جَانِبَا الْإِمَامِ فإنه يَقُومُ الْجَائِي عن يَمِينِهِ وَإِنْ تَرَجَّحَ الْيَمِينُ فإنه يَقُومُ عن يَسَارِهِ وَإِنْ وَجَدَ في الصَّفِّ فرجه سَدَّهَا وَإِلَّا فَيَنْتَظِرُ حتى يَجِيءَ آخَرُ كما قَدَّمْنَاهُ وفي فَتْحِ الْقَدِيرِ وَرَوَى أبو دَاوُد وَالْإِمَامُ أَحْمَدُ عن ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قال أُقِيمُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بين الْمَنَاكِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِينُوا بأيديكم إخْوَانِكُمْ لا تَذَرُوا فُرُجَاتٍ لِلشَّيْطَانِ من وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ ( 1 ) وَرَوَى الْبَزَّارُ باسناد حَسَنٍ عنه من سَدَّ فُرْجَةً في الصَّفِّ غُفِرَ له وفي أبي دَاوُد عنه قال خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ في الصَّلَاةِ۔(البحرالرائق،باب الامامة،ج1،ص375)