بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
اولاد کی موجودگی میں بیوی کا حصہ اور دیگر ورثاء کو اپنا حصہ فروخت کرنا
سوال
ایک آدمی کی تین بیویاں ہوں اور اولاد بھی ہوتو اس کی ہر ہر بیوی کو میراث میں کتنا حصہ ملے گا؟ اگر کوئی ایک بیوی اپنے حصے کی زمین لینے کے بجائے زمین کی قیمت لینا چاہے تو قیمت دینے میں کس دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا ؟
جواب
اگر کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس کے ورثاء میں تین بیویاں اور اولاد ہو تو تین بیویوں میں سے ہر بیوی کو 1/24حصہ دیا جائے گا۔
نیز مورث کے انتقال کے بعد اگر کوئی وارث اپنے حصے کی بجائے زمین کی قیمت لینا چاہے تو یہ خریدوفروخت کا معاملہ ہے چنانچہ طرفین جس قیمت پر متفق ہوجائیں وہی قیمت لازم ہوگی۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ(سورۃالنساء،آیت 11)
ويصح بيع حصة شائعة معلومة كالنصف والثلث والعشر من العقار ۔۔۔۔ فلو قال لرجل بعتك نصيبي من ھذاالدار بکذاوقبل المشتری ولم یکن عالما بنصیبہ لا یجوز ھذاالبیع، وان علم جاز۔(شرح المجلۃ،المادۃ214،ص103)