بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بینک کے توسط سے قسط وار گاڑی خریدنا


سوال

 میرا ایک دوست سعودی عرب میں مقیم ہے اور وہ قسطوں پر شو روم سے گاڑی لینا چاہتا ہے۔۔۔ یکمشت وہ گاڑی اسے 35000 ریال کی ملتی ہے اور قسطوار 45000 ریال کی، یہ سارا لین دین بینک کے ذریعے ہوتا ہے اور۔مقررہ مدت میں ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں  بینک اس سے مزید رقم وصول کریگا آیا یہ سود میں آئے گا؟ جبکہ پورے ملک میں وہ ۔قسطوار گاڑی صرف بینک کے ذریعے سے ہی لے سکتا ہے اور اس میں یہ شرط لازمی ہوتی ہےنیزیہ کہ اسکے علاوہ کوئی حیلہ جواز یا کوئی مجوزہ صورت بن سکتی ہے۔۔۔براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

شریعت کی رو سے قرض / دَین  پر  مشروط نفع حاصل کرنا سود کے زمرے میں داخل ہے  قسط وار بیع میں مشتری کے ذمے دین کی ادائیگی مقررہ وقت تک لازم ہوتی ہے لیکن اس دَین  کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر اضافی رقم لیناسود ہے جو کہ حرام ہے۔

          صورت مسئولہ  ميں  بینک کے توسط سے  قسط وار گاڑی خریدنے میں  اگر تاخیر کی صورت میں اضافی رقم کی شرط لگائی گئی تو یہ سود کے حکم میں داخل ہے اس لیے معاملہ سے احتراز لازم ہے ۔

قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر  وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض فعلى قول الكرخي لا بأس به ۔۔۔ ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به۔    (الدرالمحتار ،  مطلب كل قرض جر نفعا حرام ، ج5 ، ص166)

وأما الذي يرجع إلى نفس القرض فهو أن لا يكون فيه منفعة فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب۔  (بدائع الصنائع ، كتاب القرض ، فصل فى الشروط ، ج1 ، ص598،597)


فتویٰ نمبر : 2755/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور