بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
كرونا وائرس يا ڈينگی سے مرنے والے کی شہادت
سوال
کیا کرونا بیماری یا ڈینگی مچھر کےکاٹنے سے مرنے والے کو شہید کہا جا سکتا ہے؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے شہید کا اطلاق "دنیوی شہید" اور"اخروی شہید" دونوں پر ہوتا ہے ۔ دنیوی شہید سے مراد وہ ہے جس کو میدان جہاد میں کافر قتل کرے یا وہاں مردہ حالت میں پایا جائے اور اس کے جسم پر زخم کے آثار ہوں یا ظلما اس طرح قتل کیا جائے کہ اس کے قتل پر دیت واجب نہ ہو اس کو غسل دئے بغیر کفن دے کر اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے ، جبکہ اخروی شہید کا دائرہ و سیع ہے چنانچہ اگر کوئی شخص پانی میں غرق ہوجائے یا آگ میں جل جائے ، ہیضہ یا طاعون وغیرہ سے مر جائے تو یہ شخص بھی اخروی شہید شمار ہوگا یعنی قیامت میں حشر اور ثواب کے اعتبار سے شہید جیسا معاملہ ہوگا البتہ دنیا میں اس کو عام مؤمنین کی طرح غسل اور کفن دیا جائے گا۔
صورت مسئولہ کی مطابق کرونا وائرس اور ڈینگی سے مرنے والے کو اخروی شہید کا درجہ اس صورت میں حاصل ہوگا جب یہ وباء کی صورت اختیار کر جائیں ۔ موجودہ صورتحال میں کرونا ایک وباء کی شکل اختیار کر چکی ہے لہذا اس بیماری سے مرنے والا آخرت میں شہادت کی فضیلت کا مستحق ہوگا جبکہ ڈینگی فی الوقت کوئی وباء نہیں تاہم اگر کہیں ڈینگی وباء کی صورت اختیار کر جائے تو ایسی صورت میں ڈینگی سے مرنے والاشخص بھی اخروی شہادت کی فضیلت کا مستحق ہوگا ان شاء اللہ۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدٌ "۔ (سنن ابي داؤد ، باب فى فضل من مات في الطاعون ، ج2 ، ص87)
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الطاعون فأخبرني : " أنه عذاب يبعثه الله على من يشاء وأن الله جعله رحمة للمؤمنين ليس من أحد يقع الطاعون فيمكث في بلده صابرا محتسبا يعلم أنه لا يصيبه إلا ما كتب الله له إلا كان له مثل أجر شهيد "۔ (مشكاة المصابيح ، باب عيادة المريض و ثواب المرض ، ج1 ، ص349)