بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
استخارے کے احکام
سوال
استخارہ کے بارے میں معلومات دیں کہ استخارہ احادیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ اور کن معاملات میں کرناچاہئے؟ اس کا طریقہ بھی بتلادیں اور یہ بھی کہ کس دن یہ کرنا چاہئے؟اگرخواب نہ دیکھے تواس میں کوئی حرج تونہیں؟اور اگر خواب دیکھے تو پھر کسی کوخواب بتادے یا نہیں،کیاکرناچاہئے؟
جواب
استخارہ کامعنی ہے اللہ تعالی سے خیرطلب کرنا۔جب کسی ایسے کام کاارادہ کیاجائےجومباح ہو یعنی اس کاکرنا اور نہ کرنا دونوں جائز ہو،اور اس کی کامیابی وبھلائی میں شک وتردد ہو مثلاً سفر کاارادہ ہو،تجارت شروع کرنے کاخیال ہو یا کہیں پر منگنی وبیاہ کرنے کی نیت ہو یااسی قسم کے دوسرے مباح کام کرنے کاارادہ رکھتا ہو توایسے موقع پر مناسب اور بہتر یہ ہے کہ استخارہ کے ذریعے راہ نمائی حاصل کی جائے۔مختلف احادیث سے استخارہ کی فضیلت ثابت ہےصحیح بخاری میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے "کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن کی سورت کی تعلیم کی طرح استخارہ کی تعلیم دیاکرتےتھے"استخارہ کی برکت یہ ہے کہ کام شروع کرنے والے کےحق میں جوبات بھی بہتر ہوتی ہے وہ اس کے دل میں قرارپکڑتی ہے،اوردل اپنے حق میں بہتر بات کافیصلہ کرتاہے۔استخارہ کاطریقہ یہ ہے کہ مکروہ اوقات کے علاوہ کسی بھی وقت وضوکرکے استخارہ کی نیت سے دورکعت نماز پڑھے،اور اس کے بعد خوب دل لگاکر یہ دعاپڑھے:
"اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ"
اورجب لفظ"هٰذَا الْأَمْرَ" پر پہنچے تواسے پڑھتے وقت اسی کام کادھیان کرلے جس کے لیا استخارہ کیاجاتا ہو۔اس وقت جوبات دل میں قرار پکڑ لے اسی کو اختیار کیاجائے اسی میں بہتری ہوگی۔ ان شاءاللہ۔استخارہ کے لیے کوئی خاص دن متعین نہیں بلکہ کسی بھی دن کیاجاسکتا ہے۔اگرایک دن میں کچھ معلوم نہ ہوجائے اوردل کاخلجان وتردد دورنہ ہو،تودوسرے دن پھر ایسا ہی کرےاسی طرح سات دن تک کرتا رہے ان شاء اللہ ضرور اس کام کی اچھائی یابرائی معلوم ہوجائے گی ۔یادرہے کہ استخارہ صرف مباح کاموں میں مشروع ہے فرض،واجب یاحرام کاموں میں یہ جائز نہیں،اسی طرح استخارہ میں نفل نمازاور دعا کے بعد سونااورخواب دیکھنا ضروری نہیں ،بس دلی اطمینان کافی ہے،چاہے جاگ کر ہی حاصل ہوجائے یاسونے کے بعد۔تاہم اگر کوئی استخارہ کے بعد سوجائے اور خواب میں اس کو اس کام کی اچھائی یابرائی معلوم ہوجائے تو اس سے بھی راہ نمائی لی جاسکتی ہے۔اورتعبیر کے لیے اس خواب کو کسی دوست یادوسرے خیرخواہ اور سمجھ دار شخص کو بتلانے میں بھی کوئی حرج نہیں ،بشرطیہ کہ وہ خواب کی تعبیرجانتا ہو۔
" عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كما يعلمنا السورة من القرآن يقول إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل اللهم إني أستخيرك بعلمك الخ "(صحیح البخاری،کتاب التھجد،باب ماجاءفي التطوع مثنى مثنى،رقم حدیث1162 ،56/2)
" وينبغي أن يكررها سبعا لما روى ابن السني يا أنس إذا هممت بأمر فاستخر ربك فيه سبع مرات ثم نظر إلى الذي سبق إلى قلبك فإن الخير فيه ولو تعذرت عليه الصلاة استخار بالدعاء اهـ ملخصا وفي شرح الشرعة المسموع من المشايخ أنه ينبغي أن ينام على طهارة مستقبل القبلة بعد قراءة الدعاء المذكور فإن رأى في منامه بياضا أو خضرة فذلك الأمر خير وإن رأى فيه سوادا أو حمرة فهو شر ينبغي أن يجتنب"(ردالمحتار،مطلب فی رکعتی الاستخارۃ،ج2ص26)