بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مدرسے میں ہر طالب علم کا الگ الگ پنکھا چلانا


سوال

ایک مدرسہ ہے۔اس میں ایک برآمدہ ہےجس میں دو پنکھے لگے ہوئے ہیں۔اس میں ایک پنکھا چل رہا ہو اور اس کے نیچے ایک طالب علم بیٹھ کر مطالعہ کررہا ہو۔اس کے بعد دوسرا طالب علم آجائے اور اس کے بیٹھنے کی گنجائش ہو۔لیکن وہ دوسرا پنکھا چلا کر اس کے نیچے بیٹھ جائے،تو کیا یہ دوسرا پنکھا چلانا اسراف یا تبذیر کے حکم میں آتا ہے یا نہیں؟

جواب

قرآن کریم میں صریح الفاظ میں اسراف اور تبذیر سے منع کیا گیا ہے۔تبذیر یہ ہے کہ مال کو گناہ کے کام میں خرچ کیا جائے۔جبکہ اسراف جائز مواقع میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کو کہتے ہیں۔اس لحاظ سےتبذیر اسراف کے مقابلے میں بڑا جرم ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں مبذرین کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔

صورت مسئولہ میں جب ایک طالب علم نے پنکھا چلایا ہوتو چونکہ ایک پنکھے کے نیچے سہولت سے کئی طلباء بیٹھ کر مطالعہ کرسکتے ہیں۔لہذا دوسرے طالب علم کے لیےدوسرا پنکھا چلانے کی گنجائش نہیں اور یہ اسراف کے حکم میں داخل ہو کر ناجائز ہے ۔نیز یہ وقف مال میں بے جا تصرف کرنے کے حوالے سے بھی جرم ہے۔تاہم اگر دونوں طلبہ میں سے ایک تکرار کررہا ہویا تیز آواز سے سبق یاد کررہا ہواور دوسرا مطالعہ،جس کی وجہ سے مطالعہ کرنےوالے کا  مطالعہ تکرار کی وجہ سے متاثر ہورہا ہو اور اس عذر کےبنا پر دونوں الگ الگ بیٹھ کر پنکھے چلائیں تو شرعا اس کی گنجائش ہوگی۔

والتحقیق ان بینھما فرقا،وھو ان الاسراف صرف الشیئ فیما ینبغي زائدا علی ما ینبغي ،والتبذیر صرفہ فیما لا ینبغي۔(ردالمحتارعلی الدرالمحتار،کتاب الفرائض، ج10ص494)


فتویٰ نمبر : 4503/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور