بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوہ کا عدت گزارنے کے لیےشوہر کےگھرجانا


سوال

میرے والدصاحب وفات سے چنددن قبل میری ہمشیرہ کے گھر بحالت مرض چلے گئے اس کے بعد میری والدہ بھی ان کی خدمت کی غرض سے وہاں چلی گئی۔کچھ دنوں بعد وہیں پر(ہمشیرہ کے گھر) والد صاحب انتقال کرگئےاس وقت والدہ بھی وہاں پرتھی۔اب سوال یہ ہے کہ کیااب میری والدہ پر ہمشیرہ کے گھر عدت گزارنا واجب ہے یا اپنے گھر واپس جاسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ معتدہ عورت پر اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارنا واجب ہے،اور شوہر کے گھر سے مراد وہ گھر ہے جس میں دونوں (میاں ،بیوی)موت سے قبل سکونت پذیر تھے۔اگر شوہر کی وفات  کے وقت بیوی کسی اور جگہ پر ہو تو اس کے لیے فوراًاپنے شوہر کے گھر لوٹ کرآناضروری ہے۔صورت مسئولہ میں سائل کی والدہ کوچاہئے کہ  وہ اپنے شوہر کے گھر واپس چلی جائےاور عدت کی بقیہ مدت وہاں پر پوری کرلے۔

"وعلى المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت لقوله تعالى { لا تخرجوهن من بيوتهن } والبيت المضاف إليها هو البيت الذي تسكنه ولهذا لو زارت أهلها وطلقها زوجها كان عليها أن تعود إلى منزلها فتعتد فيه وقال عليه الصلاة والسلام للتي قتل زوجها اسكني في بيتك حتى يبلغ الكتاب أجله".(الھدایۃ،باب العدۃ،ج2ص33)       

 "( طلقت ) أو مات وهي زائرة ( في غير مسكنها عادت إليه فورا ) لوجوبه عليها ( وتعتدان ) أي معتدة طلاق وموت ( في بيت وجبت فيه )وقال ابن عابدین: قوله ( في بيت وجبت فيه ) هو ما يضاف إليهما بالسكنى قبل الفرقة ولو غير بيت الزوج كما مر آنفا".(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطلاق،باب العدۃ،ج5ص225)


فتویٰ نمبر : 6175/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور