بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
مدرسے کی رقم سے انعامی جلسوں کاانعقاد
سوال
مسجد میں ہی حفظ وناظرہ کاایک مدرسہ قائم ہے ،جس کی درسگاہیں مسجد میں لگتی ہیں ۔خاص مواقع پر مثلاً محرم الحرام اور ربیع الاول کے مہینوں میں اہل محلہ کے لیے کوئی تقریب منعقد ہوتی ہے،اس کی ضروریات کے لیے اہل محلہ تعاون کرتے ہیں اور اس میں ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ جن طلبا نے امتحان میں نمایاں نمبروں سے کامیابی حاصل کی ہو ان کو اعزازی انعامات بھی اسی تقریب میں دئیے جاتے ہیں،تو کیااس تقریب کی اخراجات میں مدرسے کی رقم( عطیات اور زکوٰۃ) خرچ کی جاسکتی ہے؟مدلل حکم بیان فرمائیں۔
جواب
جب چندہ دیتے وقت چندہ دہندہ کسی خاص مصرف کی تعیین کردے تو ایسی صورت میں اس خاص مصرف کے علاوہ مہتمم کے لیے کہیں اور اس رقم کوصرف کرنا جائزنہیں۔اور اگر وہ کسی خاص مصرف کی تعیین نہ کرے بلکہ مطلقاً مصالح مدرسہ کے لیے چندہ دے توپھر مہتمم اس رقم کو عرف کے مطابق مدرسہ کے عمومی مصالح میں خرچ کرسکتاہے۔ اگراہل محلہ کے لیے منعقد کیے جانے والے اجتماعات غیرشرعی امور مثلاً بدعات ومنکرات پرمشتمل نہ ہوں بلکہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے اہل محلہ کو مدارس کی طرف راغب کرنے اور امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبا کی حوصلہ افزائی کی خاطر ان اجتماعات کاانعقاد کیاجاتاہوتوایسی صورت میں مدرسے کی مدسے عرف کے مطابق ضرورت کے بقدر ان کے اخراجات میں رقم خرچ کی جاسکتی ہے،البتہ جن رقوم کاچندہ دہندگان نے مصرف متعین کیاہو تو ان کو انہی خاص مصارف کے علاوہ کہیں اور صرف نہیں کیاجاسکتا۔
"وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره "۔ (ردالمحتار،علی الدرالمحتار،کتاب الزکوٰۃ،ج2ص362)
"الثامنة في وقف المسجد أيجوز أن يبنى من غلته منارة قال في الخانية معزيا إلى أبي بكر البلخي إن كان ذلك من مصلحة المسجد بأن كان أسمع لهم فلا بأس به۔(البحرالرائق،کتاب الوقف،ج5ص233)