بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
فیس وصول کرنے والے مدارس کاچندہ لینا
سوال
ایک ایسا مکتب یامدرسہ جس میں طلبہ فیس دے کرپڑھتے ہیں ان میں بعض طلبہ ایسے ہوتے ہیں جوفیس اداکرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ،جب کہ اساتذہ کو تنخواہیں اسی وصول شدہ فیس سے دی جاتی ہیں۔کیااس مکتب یامدرسے میں زکوٰۃ ،نفلی اور واجب صدقات وصول کیے جاسکتے ہیں؟اگرسارے ہی طلبہ ایسے ہوں جوفیس اداکرتے ہوں توایسی صورت میں یہ مدرسہ زکوٰۃ، نفلی اورواجب صدقات وصول کرسکتا ہے؟ مفصل اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
جواب
اکثر مدارس میں مدرسین کی تنخواہوں کے علاوہ اور بھی بہت سے اخراجات ہوتے ہیں مثلاً تعمیراتی کام،طلبا کے کھانے پینے کاخرچ اور بجلی، گیس کے بل وغیرہ ۔اگر کسی مدرسے میں طلباسے وصول کی جانے والی فیسوں سے مدرسین کی تنخواہیں پوری نہ ہوتی ہوں،یاتنخواہیں تو پوری ہوتی ہوں مگر تنخواہوں کے علاوہ مدرسہ کے اور اخراجات بھی ہوں ان فیسوں سے پورے نہ ہوتے ہوں توایسے میں مدرسے کامنتظم لوگوں سے صدقات وعطیات وصول کرسکتاہے البتہ جو صدقات واجب التملیک ہوں تو ان کومدرسہ کے کاموں میں صرف کرنے سے پہلے ان کی تملیک ضروری ہے۔
"( ويبدأ من غلته بعمارته ) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح"(الدرالمختار،کتاب الوقف،ج6ص559)
"الذي يبدأ من ریع الوقف عمارته شرط الواقف أم لا ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم بقدر كفايتهم كذا في السراج والبسط كذلك إلى آخر المصالح"۔(الفتاوٰی الھندیۃ،کتاب الوقف،الباب الثالث،الفصل الاول،ج2ص980)