بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

میٹر میں چھیڑ چھاڑسے رقم جمع کرنے والے کی توبہ


سوال

ایک شخص جس نے لوگوں کے میٹر سلو یا بند کر کے پیسے بٹورے ہوں اور اسی رقم سے گھر بھی تعمیر کرلیا ہو ، لیکن اب یہ شخص توبہ کر کے تلافی کرنا چاہتا ہے ،تو شرعا اس تلافی کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟

جواب

کسی شخص کو اللہ تعالی گناہوں سے توبہ کی توفیق عطا فرمائے تو یہ بڑی سعادت کی بات ہے۔اسے چاہیے کہ وہ صدق دل سے گناہوں سے توبہ کرےاور آئندہ  گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم کر لےاگر کسی کا مال نا حق کھایا ہو تو اس کی واپسی کی فکر کرے۔ جس سے ناحق مال لیا تھا اگر وہ زندہ ہو تو اس کو واپس کرے ورنہ ورثاء تک اس مال کو پہنچائے البتہ اگراصل مالک بھی معلوم نہ ہواور نہ ہی ان کے ورثاء کا علم ہو تو ایسی صورت میں ان کے مال کو اصل مالک کی نیت سے صدقہ کردینا واجب ہے۔

لوگوں سے رقم لے کر میٹر کو کم یا بند کر دینا رشوت خوری کے حوالے سے   جرم تو ہے ہی لیکن اس سے بڑھ کر یہ ملک و قوم کا بھی مجرم  بنتا ہے  لہذا اگر کسی نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اب اس پر نادم ہے  تو سب سے پہلے اللہ تعالی سے اس گناہ پر  سچے دل سے توبہ کر لے پھر لوگوں سے جو رقم لی ہے تو ان کو ان کی رقم واپس کردے  اگر وہ زندہ نہ ہوں تو ورثاء کو اور اگر ورثاء کا بھی علم نہ ہو تو صاحب حق کی طرف سے اس مال کو صدقہ کردےاور اجتماعی طور پر ملک وقوم سے جس جرم کا ارتکاب کیا ہے اس پر صدق دل سے معافی مانگے اور آئندہ نہ کرنے کا پکا عہد کرلے۔  اللہ تعالی کی رحمت سے سے امید ہے کہ ایسا کرنے سے   اللہ تعالی معاف فرمادیں گے۔

وَالسَّبِيلُ في الْمَعَاصِي رَدُّهَا وَذَلِكَ هَاهُنَا بِرَدِّ الْمَأْخُوذِ إنْ تَمَكَّنَ من رَدِّهِ بِأَنْ عَرَفَ صَاحِبَهُ وَبِالتَّصَدُّقِ بِهِ إنْ لم يَعْرِفْهُ لِيَصِلَ إلَيْهِ نَفْعُ مَالِهِ إنْ كان لَا يَصِلُ إلَيْهِ عَيْنُ مَالِهِ۔

(الفتاوی الھندیہ،کتاب الکراھیہ،الباب الخامس عشر فی الکسب،ج5،ص349)


فتویٰ نمبر : 4500/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور