بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
نما ز کے لیے زبان سے نیت کا حکم
سوال
ہمارے پیش امام صاحب نماز باجماعت کے لیے تشریف لاتے ہیں تو اقامت کے فورا بعد فرماتے ہیں کہ صفوں کو درست کرو،شلوار کے پائنچے اوپر کروجوتکبر کی علامت ہےجو کہ حدیث کے عین مطابق ہے لیکن اس سے قطع نظر فورا بغیر نیت نماز باندھے اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کر دیتے ہیں جس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے میرے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نیت باندھنا فرض نہیں ہے؟ اگرامام صاحب موصوف کی نیت یہ ہو کہ نماز کے لیے نیت کر کے اپنے خلوت خانہ سے تشریف لاتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر نمازی گھر سے خود وضو کر کے باجماعت نماز کے لئے مسجد تشریف لاتا ہےتو وہ بھی نیت نماز سے مبرا ہوا کہ نہیں؟
جواب
نیت دل سے کسی کام کا پختہ ارادہ کر لینے کا نام ہے نیت کی صحت کے لیے زبان سے الفاظ کی ادائیگی ضروری نہیں تاہم جس شخص کے لیے زبان سے نیت کے الفاظ ادا کیے بغیر اپنے دل کو مستحضر کر نا مشکل ہو اسے زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا چاہیے تاکہ دل متوجہ ہوجائے ۔ صورت مسؤلہ میں سائل کی مسجد کے امام صاحب اگر زبان سے نیت نہیں بھی کرتے تو اس سے نماز پر کوئی فرق نہیں پڑتا ان کے دل کی نیت اور ارادہ ہی کافی ہے۔نیزکسی بھی شخص کا گھر سے وضو کر کے نماز کی نیت سے مسجد جانا دل کے ارادے اور نیت کو واضح کرتا ہے اس لیے بعد میں زبان سے تکلم ضروری نہیں ۔ تاہم اگر کسی کے خیالات منتشر ہوں اور مسجد جانے کے باوجود دل کسی اور طرف متوجہ ہو تو اس کو تکبیر تحریمہ کے وقت دل کو متوجہ کرنے کے لیے زبان سے نیت کر لینی چاہے۔
( و ) الخامس ( النية ) بالإجماع ( وهي الإرادة ) المرجحة( لا ) مطلق ( العلم ) في الأصح( والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة )۔ (الدرالمختار،ج1،ص415،باب شروط الصلوۃ)
وقد اخْتَلَفَ كَلَامُ الْمَشَايِخِ في التَّلَفُّظِ بِاللِّسَانِ فذكرہ في مُنْيَةِ الْمُصَلِّي أَنَّهُ مُسْتَحَبٌّ وهو الْمُخْتَارُ وَصَحَّحَهُ في الْمُجْتَبَى وفي الْهِدَايَةِ وَالْكَافِي وَالتَّبْيِينِ أَنَّهُ يَحْسُنُ لِاجْتِمَاعِ عَزِيمَتِهِ۔۔۔۔ وقد يُفْهَمُ من قَوْلِ الْمُصَنِّفِ لِاجْتِمَاعِ عَزِيمَتِهِ أَنَّهُ لَا يَحْسُنُ لِغَيْرِ هذا الْقَصْدِ وَهَذَا لِأَنَّ الْإِنْسَانَ قد يَغْلِبُ عليه تَفَرُّقُ خَاطِرِهِ فإذا ذَكَرَ بِلِسَانِهِ كان عَوْنًا على جَمْعِهِ(البحرالرائق،ج1،ص293)