بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن لینا
سوال
زید پراپرٹی کا کاروبار کرتا ہے زید کے پاس مختلف قسم کے لوگ آتے ہیں مثلا کوئی آتا ہے کہ ہمارے لئے اچھا سا پلاٹ دیکھواور کوئی آکر کہتا ہے ہمارا ایک پلاٹ ہے اس کو فروخت کرو ۔زید دونوں سے کہتا ہے ٹھیک ہے لیکن میں دونوں(بائع،مشتری)سے کمیشن لوں گا تو کیا زید کے لئے بائع ومشتری دونوں سے کمیشن لینا درست ہے؟
جواب
زمین کی خریدوفروخت میں پراپرٹی ڈیلر کا کردار دلال کا ہوتا ہے اور دلالی کی اجرت لینے میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔صورت مسئولہ میں اگر کوئی دلال بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن طے کر لے تو اس کےلئے دونوں سے کمیشن وصول کرنا جائز ہوگا۔
وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا ، وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج9،ص87)
واما الدلال فان باع العین بنفسہ باذن ربھا فاجرتہ علی البائع وان سعی بینھما وباع المالک بنفسہ یعتبر العرف ،وتمامہ فی شرح الوھبانیۃ۔قولہ:(یعتبر العرف) فتجب الدلالۃ علی البائع او المشتری او علیھما بحسب العرف۔جامع الفصولین۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،ج7،ص93)