بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فیصدکے لحاظ سے کمیشن مقررکرنے کی ایک صورت سے متعلق فتویٰ پر اشکال کا جواب


سوال

بندہ نے کمیشن کی ایک صورت کے بارے میں ایک سوال بھیجا تھا کہ دلال کے لیے حاصل شدہ منافع میں سے دس فیصد کمیشن مقرر کرنا جائز ہے کہ نہیں ؟ جس کے جواب میں آپ حضرات نے لکھا جس کاخلاصہ یہ ہے کہ دس فیصد کمیشن مقرر کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ اجرت مجہول ہے ۔آپ حضرات کے فتوے کا نمبر322/297/2629 ہے۔لیکن اس کے برعکس دارالافتاءجامعہ دارالعلوم کراچی والوں نے اس صورت کو جائز قرار دیا ہے ان کے فتوے کی فوٹوکاپی ارسال ہے۔دونوں حضرات کے مؤقف میں ظاہرا تعارض ہے براہِ کرم دلائل کے ساتھ تعارض کو رفع فرماکر بندے کی الجھن دور فرمائیں نوازش ہوگی۔

جواب

عقد اجارہ کے جواز کے لئے جہاں فقہائے کرام نے دیگر شرائط ذکر کی ہیں ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ  اجرت متعین اور معلوم ہو اس میں کسی قسم کا ایسا ابہام یاجہالت نہ ہو جو مفضی الی النزاع ہو سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگرچہ دلال کی اجرت کو منافع میں دس فیصد کمیشن کی صورت میں متعین کردیا گیا ہےلیکن یہ تعیین ایسی نہیں کہ جس سے ابہام رفع ہوجائےکیونکہ ضروری نہیں کے دلال کو مبیع کی اصل قیمت اور منافع کا علم ہو اور جب دلال کے حق میں منافع مجہول ہوں تو اس کی اجرت بھی مجہول اور مبہم رہے گی جو باہم جھگڑے کا سبب بنے گا اسی کو بنیاد بناکر  جامعہ عثمانیہ کے دارالافتاءسےصورت مسؤلہ پر عدم جواز کا حکم لگایا گیا ہے۔

عن ابي سعيد الخدري رضی الله تعالی عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن استیجار الاجیر یعنی حتی یبین لہ اجرہ۔(السنن الکبری للبیہقی،باب لاتجوز الاجارۃحتی تکون معلومۃ،ج9،ص 39،حدیث نمبر11855)

 وشرطہا کون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لان جہالتہما تفضی الی المنازعۃ۔     (الدرالمختار،کتاب الاجارۃ،ج 9،ص7)

اجارۃ السمسار والمنادی والحمامی والصکاک وما لایقدر فیہ الوقت ولاالعمل تجوزلما کان للناس بہ حاجۃ،ویطیب الاجرالماخوذ لو قدر اجرالمثل۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،باب الاجارۃالفاسدۃ،ج9،ص64)


فتویٰ نمبر : 2738/279/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور