بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
"یو،دوہ،درے زہ ورکہ شہ" کہنے سے طلاق کاحکم
سوال
میرا اپنی اہلیہ کے ساتھ کسی بات پر تنازعہ ہوا ۔اس کا بھائی اور چچا زاد بھائی موجود تھے میں نے انہیں کہا کہ اسے لے جاؤ ،میرے سامنے سے ہٹادو انہوں نے میری منت سماجت کی لیکن میں نہیں مانا اور اپنی بات پر اصرار کرتا رہا اس دوران میں نے اس سے بار بار یہ کہا کہ"یو ،دوہ،درے ،زہ ،ورکہ شہ"اور اس کے بھائی سے کہا کہ اسے لے جاؤ ۔اس وقت میں نے مختلف مزید جملے بھی کہے ۔البتہ طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا اور نہ ہی دل میں طلاق کی نیت تھی اور نہ ہی رشتہ ختم کرنے کا ارادہ تھا اس وقت ذہن میں طلاق نہیں آیا ورنہ یہ الفاظ بھی ادا کر دیتا اب اس صورت حال کا کیا حکم ہے ؟
جواب
لفظ "یو ،دوہ ،درے "(یعنی ایک ،دو ،تین ) اصل معنی کے اعتبار سے اعداد ہیں جو کسی بھی چیز کی گنتی کیلئے استعمال ہوتے ہیں عموما عدد کے ساتھ معدود بھی ذکر کیا جاتا ہے لیکن کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ قرینہ و مقام کی وجہ سے محض عدد کے ذکر پر اکتفاء کیا جاتا ہے اور معدود کو مخاطب بغیر ذکر کیے سمجھ جا تا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر مذاکرہ طلاق ہو یا میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہواور مذکورہ عدد کا تلفظ کیا جائے تو اس سے طلاق ہی مراد لیا جاتا ہے نیز بعض علاقوں کے عرف میں "یو ،دوہ،درے" کے الفاظ جب بیوی سے بولے جائیں تو اس سے طلاق ہی مراد لی جاتی ہے ۔
صورت مسؤلہ میں اگر سائل نے اپنی بیوی سے غصہ کی حالت میں یا پھر مذاکرہ طلاق کے وقت یہ الفاظ (یو،دوہ ،درے زہ ورکہ شہ)کہے ہو ں اور عرف میں بھی اس سے طلاق مراد لی جاتی ہو تو ایسی صورت میں بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوں گی اور وہ طلاق مغلظہ کے ساتھ شوہر پر حرام ہو گی ۔لیکن اگر شوہر نے مذکورہ الفاظ غصے یا مذاکرہ طلاق کے وقت نہ کہے ہوں اور نہ عرف ورواج میں اس سے طلاق مراد لی جاتی ہو اور نہ ان الفاظ کے کہنے سے طلاق کی نیت ہو تو ایسی صورت میں اس پر بیوی طلاق نہ ہوگی۔
رجل قال لامراتہ انت منی ثلاثا ؟ان نوی الطلاق طلقت ،لانہ نوی ما یحتملہ ،ولو قال لم انو الطلاق لم یصدق ان کا ن فی حال مذاکرۃ الطلاق لانہ لا یحتمل الرد ۔(الفتاوی الولوالجیۃ،کتاب الطلاق ،الفصل الاول ج2/ص18)
رجل قال لامراتہ "ترا یکی و ترا سہ"او قال" تو یکی وتو سہ"قال ابو القاسم الصفار لا یقع شیئ قال الصدر الشہید :یقع اذا نوی ،قال وبہ یفتی قال القاضی ینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان کان ذالک فی مذاکرۃ الطلاق او فی حال الغضب یقع الطلاق ،وان لم یکن لا یقع الا بالنیۃ۔(خلاصۃ الفتاوی،کتاب الطلاق،الفصل الثانی فی الکنایات ،ج2/ص98)
ولو قال أنت بثلاث وقعت ثلاث إن نوى ولو قال لم أنو لا يصدق إذا كان في حال مذاكرة الطلاق والإصدق ومثله بالفارسية توبسه على ما هو المختار للفتوى۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق ،الباب الاول ج1/ص357)
ولو قال أنت مني ثلاثا طلقت إن نوى أو كان في مذاكرة الطلاق وإلا قالوا يخشى أن لا يصدق قضاء۔(رد المحتار ،كتاب الطلاق ،باب الصريح ،مطلب في قول الامام ايماني كايمان جبرئيل ج4 /ص497)
الكنايات ( لا تطلق بها ) قضاء ( إلا بنية أو دلالة الحال ) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب۔(الدر المختار ،كتاب الطلاق،باب الكنايات ج4/ص528)