بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
اعمال صالحہ یا سیئہ کے عوض اجرت لینے کا حکم
سوال
کیا ایک آدمی دوسرے آدمی کو عوض دیکر اس کے اعمال صالحہ کا ثواب لے سکتا ہے یا عوض دیکر اپنے برے اعمال اس کی طرف منتقل کر سکتا ہے یا نہیں؟ دوسرا یہ کہ اگر کوئی اسطرح کا معاملہ کرے تو مشتری کے اعمال پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں؟ تیسرا یہ کہ اعمال کے عوض اگر کوئی چیز لے لے تو اس کا استعمال کرنا کیسا ہے؟
جواب
شرعی اصول کے تحت ہر انسان صرف اپنے کئے ہوئے اعمال کے ثواب یا گناہ کا حقدار ہے کسی اور کے عمل کے ثواب یا گناہ کا حقدار نہیں چنانچہ باری تعالی کا ارشاد ہے ﴿أَلّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى * وَأَنْ لَيْسَ لِلإنْسَانِ إِلّا مَا سَعَى﴾ ترجمہ: "کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے (گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور یہ کہ انسان کو خود اپنی کوشش کے سوا کسی اور چیز کا (بدلہ لینے کا) حق نہیں پہنچتا" ، تاہم اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے بندہ کو اس کے استحقاق کے بغیر کسی دوسرے کے عمل کا ثواب عطا فرمادیں تو یہ اس کی رحمت ہے جسکی ایک صورت ایصال ثواب کی ہے جو کہ متعدد احادیث سے ثابت ہے البتہ کوئی شخص اپنے اعمال صالحہ یا سیئہ کی خرید و فروخت نہیں کر سکتا کیونکہ بیع و شراء کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ مبیع مال متقوم ہو لہذا اعمال کی بیع و شراء جائز نہیں۔
صورت مسئولہ میں ایک شخص دوسرے شخص کو عوض دے کر اس کے اعمال صالحہ کا ثواب یااعمال سیئہ کے گناہ کو نہیں خرید سکتا لہذا ایسا عقد کرنے سے نہ ہی مشتری کے ذمے کسی ثواب یا گناہ کی زیادتی ہوگی نہ ہی بائع کے ذمے سے کوئی ثواب یا گناہ کم ہوگا چنانچہ جب عقد ہی درست نہیں تو بائع کے لئے اس عقد کے عوض لی گئی رقم کا استعمال جائز نہیں اور بائع پر لازم ہے کہ وہ مشتری کو رقم واپس لوٹادے۔
قال اللہ تعالی:﴿أَلّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ۔ وَأَنْ لَيْسَ لِلإنْسَانِ إِلّا مَا سَعَى﴾ (النجم ، الآیۃ:38،39)
ومنها أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال۔ (بدائع الصنائع ، فصل و اما الذي يرجع الى المعقود عليه ، ج5، ص549)
( و ) بطل ( بيع مال غير متقوم ) أي غير مباح الانتفاع به۔ (الدر المختار ، باب بيع الفاسد ، ج7 ، ص235)
وفي البحر من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع۔ (رد المحتار على الدر المختار ، باب صلاة الجنازة ، مطلب فى القراءة للميت ، ج3 ، ص152)