بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شہید پیکج کے مستحقین


سوال

پاک فوج کا ایک جوان کار پورل ٹیکنیشن ہمایوں جنوری 2016ء میں اپنے فرائض کے انجام دہی کے دوران شہید ہو گیا اس نے اپنی بیوی مسماۃ انعم ناز کو وارث نامزد کیا تھا شہید کے بچے نہیں ہے البتہ والدین حیات ہیں۔شہید پیکج کے مطابق 5 لاکھ روپے کی مالی امداد شہید کی بیوی بیوی مسماۃ انعم ناز کو ادا کی گئی ۔اس رقم کی وصولی کے بعد انعم ناز نے کسی اور سے نکاح کر لیا ۔بعد ازاں اپریل 2019ء میں شہید پیکج کے تحت ملنےوالی مالی امدادکے قواعد میں تبدیلی ہوئی اور ورثا کو ملنے والی یہ مالی امداد 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دی گئی ۔(یاد رہے کہ یہ حکومت کی طرف سے دی جانے والی مالی امداد ہے نہ میت کا ترکہ)۔مزید برآں مروجہ قواعد کی رو سے بیوہ کے کسی اور شخص سے نکاح کی صورت میں بیوہ کا متوفی کی پنشن کا استحقاق بھی ختم ہو جاتا ہے ۔ اب گویا اس پیکج مبلغ 50 لاکھ روپے میں سے 45 لاکھ روپے بقایا جات ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ : (1)کیا انعم ناز بطور بیوہ پہلے کی طرح شہید پیکج کے بقایا جات یعنی 45لاکھ روپے کی کلی یا جزوی طور پر مستحق ہے یا نہیں ؟ (2)یہ 45 لاکھ روپے کلی طور پر اس کے والدین کو ملیں گے ؟ (3)اوریا یہ پیکج میت کا ترکہ شمار ہوگا؟

جواب

           شریعت کی روشنی میں میراث کے احکام میت کے ترکہ میں  جاری ہوتے ہیں یعنی جو مال بوقت  وفات  میت کی ملکیت میں داخل ہو وہ ورثا میں بقدر حصص تقسیم کیا جائے گا  اور جو مال بوقت وفات اس کی ملکیت  میں نہ ہو بلکہ اس کی وفات کے بعد کسی پیکج وغیرہ کی صورت میں  اس کے پسماندہ گان کو دیا گیا ہو وہ ترکہ شمار نہ ہوگا۔

            صورت مسؤلہ میں حکومت کی طرف  سے شہید پیکج میں جو مالی امداد ملتی ہے  اس میں میراث جاری نہیں ہوگا  بلکہ حکومت کے قانون کے مطابق یہ رقم پسماندہ گان  میں سے  جس جس کو ملے وہی اس کا مالک ہوگا میت کے باقی ورثاء اس میں حقدار نہ  ہوں گے ۔قانون کے بارے میں جاننے کیلئے متعلقہ ادارے کے باخبر ذمہ دار  افسران  سے رابطہ کیا جائے   کہ حکومت کن ورثاکو  کن شرائط کے ساتھ  یہ رقم دیتی ہے پھر جو وارث شرائط پر پورا اترے وہی اس مالی امداد کا حقدار ہو گا ۔

العطایا لا یورث عنہ۔(شرح الاشباہ والنظائر ج495/2)

 قال رحمه الله ( يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه۔(البحر الرائق،كتاب الفرائض ج9/ص365)

ولا يصح الصلح والاعتياض لأن الاعتياض عن حق الغير لا يصح ولا يجري فيه الإرث لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام من ترك مالا أو حقا فهو لورثته ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل۔(بدائع الصنائع ،كتاب الحدود ،قبيل مقدار الواجب منها ج9/ص250)


فتویٰ نمبر : 4027/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور