بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

طلاق کو" کال" کے ساتھ معلق کیا اور پھر "مس کال" کی


سوال

شوہر نے بیوے سے کہا کہ "اگر تم نے مجھے کال کی تو تجھے طلاق "اب اگر وہ میسج  کرے گی تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟

(2) صورت مسئولہ میں اگر مرد خود بیوی کو کال کرے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟

(3)اور اگر بیوی کال کرے لیکن مرد ریسیو نہ کرے  بلکہ مس کال بن جائے  تو کیا حکم ہے ؟

(4) اسی طرح اگر مرد بیوی سے کہے کہ " اگر تم نے مجھے مس کال کی تو تجھے طلاق " اب اگر بیوی بات کرنے کی نیت سے کال کرے لیکن مرد ریسیو نہ کرے تو کیا حکم ہے ؟

(5) اگر مرد طلاق کو مس کال کے ساتھ معلق کرے اور بیوی فون ملائے  جسے مرد ریسیو  کر کے بات کرے  توطلاق واقع ہوگی یا  نہیں ؟

جواب

اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو جب بھی شرط پائی جائے گی طلاق واقع ہوگی ۔

(1)صورت مسئولہ میں اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ "اگر تم نے مجھے کال کی تو تجھے طلاق "  تو اس کے بعد اگر بیوی خاوند  کو کال کرے گی تو طلاق واقع ہوگی ۔تاہم صرف میسج سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔

(2)صورت مسئولہ میں اگر خاوند خود کال کرے  تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔

(3)اگر بیوی کال کرے لیکن مرد ریسیو نہ   کرے بلکہ مس کال بن جائے تو طلاق واقع ہوگی ۔کیونکہ بیوی نے بہرحال کال کر لی ہے ۔

(4)اگر خاوند نے طلاق کو مس کال کے ساتھ معلق کیا اور بیوی نے بات کرنے کی نیت سے کال کی ،لیکن ریسیو نہ کرنے کی وجہ سے مس کال بن گئی تو طلاق واقع ہوگی ۔

(5)صورت مسئولہ میں اگر خاوند بیوی کی کال کو ریسیو کرے اور بات کرے تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔

اذا اضافہ الی   الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً۔(الفتاوی الہندیۃ ،کتاب الطلاق ، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ج1ص 420)


فتویٰ نمبر : 6180/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور