بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری پرملنے والے کیش بیک کاحکم
سوال
آج کل کریڈٹ کارڈ دئیے جاتے ہیں،جن پراستعمال کی مد میں کیش بیک دیاجاتاہے۔یعنی اگر میں ہزارخرچ کروں گا توکچھ فیصدمجھے واپس کردیاجائے گا۔چونکہ کریڈٹ کارڈ کے اصول متعین ہیں کہ اگرآپ خرچ کیے ہوئے پیسےایک مقررہ مدت کے اندر واپس کردیتےہوتواس پر کوئی سود نہیں،سوال یہ ہے کہ میرے خرچ کیے ہوئے پیسوں پراگربینک مجھے کچھ پیسے واپس کردیتاہےتوکیاوہ سود کے زمرے میں آئیں گے یاتحفہ کی مدمیں؟
جواب
کریڈٹ کارڈ کے اجرا کے وقت بینک اورحامل کارڈ(card holder) کےدرمیان یہ معاہدہ طے پاتاہے کہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری یانقدرقم نکالنے کے بعد ایک متعینہ مدت سےادائیگی کی تاخیرکی صورت میں حامل کارڈبینک کو اضافی سود دینے کا پابند ہوگا۔ازروئےشرع یہ ایک ناجائزاورحرام معاہدہ ہے اس لیے کریڈٹ کارڈ کااجرااور اس کااستعمال ناجائز ہے،لہٰذااگر کسی شخص کو ڈیبٹ کارڈ یاچارج کارڈ کی سہولت میسر ہو تواس کے لیے کریڈٹ بنوانا جائزنہیں۔لیکن اگرکسی نےکریڈٹ کارڈ بنوالیا ہو یاکسی وجہ سے بنوانا ضروری ہو،تواس کااستعمال(اس کے ذریعے خریداری وغیرہ)درجہ ذیل شرائط کے ساتھ درست ہے:
(1)حامل کارڈ اس بات کاپورااہتمام کرے کہ متعین وقت سے پہلے پہلے ادائیگی کردی جائےاورسود نہ چڑھے۔
(2)حامل کارڈ اگرچہ سود لازم ہونے سے پہلے ادائیگی کرےمگر کریڈٹ کارڈ کامعاہدہ چونکہ سود کی بنیاد پرہوتاہےاس لیے اس پرلازم ہے کہ اس سودی معاہدہ پر توبہ اوراستغفارکرے اور کوشش کرے کہ کریڈٹ کارڈ کی بجائے اپنی ضرورت ڈیبٹ کارڈسے پوری کرے۔
مذکورہ بالاشرائط کی رعایت رکھتے ہوئےاگرکریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری کی صورت میں کوئی ڈسکاؤنٹ کیش بیک وغیرہ کی صورت میں ملے،تویہ سودکے زمرے میں نہیں آتابلکہ یہ خریداری کی ترغیب کے لئے ایک تحفہ ہے،کیونکہ سوداس مشروط منفعت کوکہاجاتاہے جومقروض کی طرف سے اصل قرض کے علاوہ مقرِض کوملے جبکہ یہاں یہ منفعت مقرِض کی جانب سے مقروض کوملتی ہے،جب کہ یہ ڈسکاؤنٹ بینک کی طرف سے ہواور اگردکاندار(کارڈ قبول کرنے والے ادارے ) کی طرف سے ہوتوپھر یہ اس کی جانب سےتحفہ سمجھاجائےگا۔لہٰذااسے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
"عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه وقال: هم سواء"(صحیح مسلم،باب لعن آكل الربا ومؤكله،1219/3)
"عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا الوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، أَوْ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ" (سنن الترمذي،بَابُ مَا جَاءَ فِي اشْتِرَاطِ الوَلَاءِ وَالزَّجْرِ عَنْ ذَلِكَ،549/3)
لايجوزإصداربطاقات الإئتمان ذات الدين المتجدد الذي يسدده حامل البطاقة على أقساط آجلة بفوائد ربوية۔۔۔۔يجوزمنح حامل البطاقة مميزات لاتحرمهاالشريعة مثل أن يكون لحاملها أولوية في الحصول على الخدمات،أوتخفيض في الأسعارلدى حجوزات الفنادق وشركات الطيران أوالمطاعم ونحوذالك"(المعائيرالشرعية،بطاقة الحسم وبطاقة الإئتمان ،المادة 3/3 و3/6/3)
"وأماالربوا فإنه يتحقق بإعطاء زيادة من المستقرض إلى المقرض وليس في العكس فلوأعطى مقرض شيئا المستقرض علاوة على القرض فإ نه تبرع محض لايلزم منه الربوا۔۔۔والجائزة اللتي يقدمهامصدرالبطاقة إلى حاملهاهي جائزةمن قبل المقرض إلى المستقرض فهوتبرع محض لاقمارفيه ولاربا" (بحوث في قضايا فقهية معاصرة،164/2)