بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حیات النبیﷺ اور سماع النبی ﷺ کا عقیدہ اور اس سے انکار کا حکم


سوال

مؤدبانہ گزارش ہے کہ مفتیان کرام اس مسئلہ میں رہنمائی فرمائیں کہ ایک شخص نے یہ حدیث بیان کی کہ " جو شخص دور سے نبی ﷺ پر درود شریف بھیجے تو فرشتے نبی ﷺ تک درود پہنچاتے ہیں اور اگر روضہ مبارک کے پاس درود شریف پڑھے تو آپ ﷺ بذات خود سنتے ہیں " یہ حدیث سن کر دوسرے ساتھی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے اور جس کا یہ عقیدہ ہو کہ نبیﷺ قبر میں سنتے ہیں یہ عقیدہ باطل ہے کیونکہ آپ ﷺ وفات پا چکے ہیں اور سماع تو صرف زندہ لوگوں کے ساتھ خاص ہے۔ دوسری یہ بات بھی کہی کہ قبر میں عذاب صرف روح کو ہوتا ہے بدن کو نہیں ہوتا۔ ذیل میں چند سوالات درج ہیں جن کے مدلل جوابات مطلوب ہیں: 1. نبی ﷺ قبر میں سنتے ہیں ، یہ عقیدہ درست ہے یا نہیں؟ 2. نبی ﷺ اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں ، یہ عقیدہ درست ہے یا نہیں؟ 3. حیات النبی ﷺ اور سماع النبی ﷺ سے انکار کرنے والے کا کیا حکم ہے؟ 4. حیات النبی ﷺ اور سماع النبی ﷺ کامنکر اگر امام ہو تو کیا اس کے پیچھے نماز ادا ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

(1،2)قرآن کریم کی آیات اور احادیث رسول ﷺ  کی روشنی میں اہل سنت و الجماعۃ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ  حضرات انبیاء کرام اپنی قبروں میں اجسام عنصریہ (یعنی روح و جسم کے باہمی تعلق) کے ساتھ زندہ ہیں اور عالم برزخ میں ان کی حیات دنیوی حیات سے کم نہیں ہے، برزخی حیات  تو ہر انسان کو حاصل ہے  جس کی بناء پر  میت  (روح و جسم)کو قبر میں راحت یا عذاب کا ادراک  ہوتا ہے   لیکن حضرات انبیاء کرام  کی حیات سب سے  اقوی  و ارفع  ہے ،  مختلف نصوص میں اس حیات کے مختلف آثار بیان ہوئے ہیں  ،  من جملہ ان آثار کے یہ بھی وارد ہے کہ اگر کوئی شخص قریب سے  آپ ﷺ  پر درود و سلام  پڑھے تو آپ خود بلا واسطہ سماعت فرماتے ہیں اور اگر کوئی شخص دور سے پڑھتا ہے تو فرشتے آپ تک پہنچا دیتے ہیں  لہذا یہ عقیدہ رکھنا کہ نبی ﷺ اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں اور درود سلام قریب سے از  خود سماعت فرماتے ہیں درست  ہے ۔

(3،4)مطلق حیات النبی ﷺ اور سماع النبی ﷺ سے انکار کرنا   نصوص سے انکار کرنا ہے  چنانچہ  جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ نبی ﷺ  کو اپنی قبر مبارک میں حیات حاصل  نہیں  تو ایسے شخص کو امام بنانا  جائز نہیں۔

عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ۔۔۔فَأَكْثِرُوا عَلَىَّ مِنَ الصَّلاَةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلاَتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَىَّ ۔۔۔ فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ .(سنن ابي داؤد ، باب فضل يوم الجمعة و ليلة الجمعة)

قال الشيخ خليل احمد فى شرحه:(إن الله عَزَّ وَجَلَّ حرم على الأرض) أي منعها (أجساد الأنبياء) أي من أن تأكلها،فإن الأنبياء في قبورهم أحياء۔(بذل المجهود شرح ابي داؤد ، بَابُ الإِجَابَةِ، أَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ في يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، 16/5)

عن أبي هريرة عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى علي عند قبري سمعته ومن صلى علي نائيا أبلغته۔(رواه البيهقي فى شعب الايمان ، الفصل الثاني فى ذكر آثار و اخبار وردت فى ذكر ، 218/2)

وقال الملا على القارى فى شرحه:(من صلى علي عند قبري سمعته) أي سمعا حقيقيا بلا واسطة۔۔۔(ومن صلى علي نائيا) أي من بعيد كما في رواية أي بعيدا عن قبرى(أبلغته)۔(مرقاۃ المفاتيح ، باب الصلوۃ علی النبی و فضلها، 21/2)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَام۔(رواه النسائي ، باب السلام على النبي ﷺ ، 43/3)

إذا سلموا علي قليلا أو كثيرا وهذا مخصوص بمن بعد عن حضرة مرقده المنور ومضجعه المطهر وفيه إشارة إلى حياته الدائمة۔(مرقاۃ المفاتيح ، باب الصلوۃ علی النبی و فضلها ، 12/2)

قال العلامة السيوطى : فأقول حياة النبي صلى الله عليه وسلّم في قبره هو وسائر الأنبياء معلومة عندنا علماً قطعياً۔۔۔فمن الأخبار الدالة على ذلك ما أخرجه مسلم عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلّم ليلة أسري به مر بموسى عليه السلام وهو يصلي في قبره۔۔۔وأخرج أبو يعلى في مسنده ، والبيهقي في كتاب حياة الأنبياء عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلّم قال : الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون (الحاوى للفتاوى ، انباء الاذكياء بحياة الانياء ، 168/2)


فتویٰ نمبر : 4495/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور