بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جماعت ثانیہ میں امام ابو یوسف ؒ کا قول


سوال

محلے کے کچھ لوگ مسجد میں دیر سے پہنچے جبکہ پیش امام جماعت کرواچکے تھے انھوں نے دوبارہ جماعت کروادی ،اور کہنے لگے کہ جماعت ثانیہ اس وجہ سے مکروہ ہے تا کہ جماعت کی اہمیت دلوں سے نہ نکل جائے جبکہ ہم تو مصروف تھے اور جماعت کی اہمیت بھی ہمارے دلوں میں موجود ہے اور ویسے بھی امام ابو یوسف ؒ کے نزدیک دوسری جماعت جائز ہے ۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا امام ابو یوسف ؒ کے ہا ں دوسری جماعت جا ئز ہے یا نہیں ؟اگر ہے تو کن شرائط کے ساتھ جائز ہے ؟

جواب

جماعت ثانیہ  میں  امام ابو یوسف ؒ کا اصح قول یہ ہے کہ  اگر  بغیر اذان واقامت کے دوسری  جماعت  ہیئت اولیٰ سے ہٹ کر پڑھی جائے  تو محلے کی مسجد میں  جماعت ثانیہ مکروہ نہ ہوگی  اگر چہ مقتدیوں کی تعداد دو سے زیادہ ہو اور اختلاف  ہیئت کیلئے یہ بات کافی ہے  کہ پہلے جس جگہ جماعت ادا کی گئی تھی اب وہاں سے ہٹ کر جماعت ادا کی جائیں ۔

                لہذا اگر  عذر یا ضرورت کی بناء پر  کبھی نماز باجماعت فوت ہو جائے تو امام ابو یوسف ؒ کے  ہاں بغیر اذان واقامت کے  ہیئت اولیٰ  تبدیل کرکے محلے کی مسجد میں  جماعت ثانیہ پڑھائی جا سکتی ہے   لیکن اس کا یہ مطلب نہیں  کہ اہل محلہ روز مرہ کے اعتبار سے  سستی کے شکار ہوکر  جماعت ثانیہ کے  نماز پڑھنے کی عادت  بنائیں  کیونکہ  جماعت ثانیہ کی عادت بنا نا  کراہت سے خالی نہیں ۔

وفي المجتبى ويكره تكرارها في مسجد بأذان وإقامة وعن أبي يوسف إنما يكره تكرارها بقوم كثير أما إذا صلى واحد بواحد واثنين فلا بأس به وعنه لا بأس به مطلقا إذا صلى في غير مقام الإمام وعن محمد إنما يكره تكرارها على سبيل التداعي أما إذا كان خفية في زاوية المسجد لا بأس به۔(البحر الرائق،كتاب الصلوة ،باب الامامة،ج1/ص605)

وعن ابي حنيفة ؒلو کانت الجماعۃ الثانیۃ اکثر من ثلاثۃ یکرہ التکرار والا فلا ۔وعن ابی یوسف اذا  لم یکن علی الہیئۃ الاولیٰ لا یکرہ والا یکرہ وھو الصحیح وبالعدول عن المحراب  تختلف الہیئۃ ۔(غنیۃ المستملی المعروف بالحلبی الکبیری ،کتاب الصلوۃ،فصل فی احکام المسجد ص530)


فتویٰ نمبر : 8716/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور